پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

غریب کیلئے روٹی نہیں،وزیراعظم کتوں کوامپورٹڈ غذا کھلا تے ہیں،جسٹس وجیہہ الدین احمدکی شدید تنقید

datetime 14  دسمبر‬‮  2020 |

کراچی (آن لائن) عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو عوام سے زیادہ اپنے پالتو جانوروں کی پرواہ ہے۔ عوام ووٹ کا صحیح استعمال کرکے ایسے لوگوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ روز کے اخبارات میں کچھ تصاویر شائع ہوئیں، جن میں ہمارے موجودہ وزیراعظم بنی گالا میں کتوں کو امپورٹڈ غذا مہیا

فرماتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اس سے پہلے ایک سابق صدر کا کہنا تھا کہ میں اپنے گھوڑوں کو سیب کے مربّے کھلاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کہانی وہی پرانی ہے۔ پاکستان کے غریب عوام کو تو دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ ملازمتیں ہیں نہ سر کے اوپر چھتیں ہیں۔ اور حکمرانوں کو اپنے جانوروں کی پڑی ہے۔ لاڑکانہ جو اس وقت سندھ کا غیر رسمی دارالخلافہ ہے وہاں آوارہ کتوں کی بھرمار ہے۔ اور بے نظیر ثانی کا کہنا یہ ہے کہ کتوں کو مارا نہ جائے اور اگر کسی نے غلطی سے ان کتوں کے اوپر ہاتھ کی صفائی دکھائی تو اس پر شدید ردِ عمل سامنے آتا ہے۔ اب یہی آوارہ کتے ہمارے بچوں کیلئے ریبیز جیسی خطرناک بیماری کے حامل ہوتے ہیں، لیکن یہاں تو دراصل کوئی عوامی حکومتیں ہیں ہی نہیں۔ یہاں تو تاریخ میں پڑھی جانے والی صورتحال ہے کہ غلط حکمران جب قابض ہو جاتے ہیں تو طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ یہاں کوئی کسی کو جوابدہ نہیں ہے۔ اور اگر تو بھگتان کوئی بھگت رہے ہیں تو وہ پاکستانی عوام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ اْس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہم صحیح لوگوں کو ووٹ دے کر منتخب نہیں کریں گے۔ اْس کی پہچان صرف یہ ہے کہ عوامی نمائندگی کے امیدوار کا ماضی داغدار تو نہیں۔ ہر ووٹر کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ امیدوار کا ماضی کیا ہے، تاکہ اس طرح کے لوگوں کا قلع قمع کیا جائے اور بہتر لوگ پاکستان کی حکمرانی کیلئے منتخب کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…