جمعرات‬‮ ، 30 جولائی‬‮ 2026 

عمران خان پاکستان کا نظام چلانے میں ناکام ہو چکے ہیں اب وہ لوگ مداخلت کرینگے جو ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں سینئر صحافی کی خطرناک پیش گوئی

datetime 12  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیے جانے والے بہت سے اعتراضات درست ہیں۔ کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔ کرشمہ اب بھی ان کا باقی ہے۔ ان کے چاہنے والے اب بھی بہت۔ وہ مگر معاملہ فہم ہیں اور نہ مر دم شناس۔سیاست کی حرکیات کو سمجھتے ہیں اور نہ معیشت کی نزاکتوں کو‘ اس پہ اپنی برگزیدگی کا احساس۔اس طرح کے ارشادات کہ

’’اپوزیشن والے مجھے جانتے نہیں‘‘۔آپ کیا نوشیرواں عادل ہیں؟صلاح الدین ایوبی ہیں؟پرسوں اپنے پسندیدہ اخبار نویسوں کے ہجوم میں خود انہوں نے تسلیم کیا کہ چھ ماہ تک آئی ایم ایف سے منہ موڑ کر انہوں نے پہاڑایسی غلطی کا ارتکاب کیا۔ شکر اور گیہوں کی گرانی۔ گرتے گرتے کپاس کی پیداوار ایک تہائی رہ گئی۔ محتاط ترین اندازہ یہ ہے کہ امسال دو ارب ڈالر کی درآمد کرنا پڑے گی۔وہ دعوے کیا ہوئے‘ دن رات جو وہ دہرایا کرتے تھے؟یہ شوکت خانم ہسپتال‘ نمل کالج یا کرکٹ کا میدان نہیں‘ ان کی محدود ذہانت اور مستقل مزاجی جہاں معجزے برپا کر سکے۔کارِ سیاست ہے‘ یہ کار ریاست۔ یہاں قائد اعظم محمد علی جناح ایسے عبقری کو بھی پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے: یہاں رکھنا قدم تم بھی سنبھل کر شیخ جی کیوں کر یہاں پگڑی اچھلتی ہے ‘اسے میخانہ کہتے ہیں چٹا گانگ سے چترال تک بھاگ دوڑ نواب بہادر یار ‘ راجہ صاحب محمود آباد‘ راجہ غضنفر اور سردار عبدالرب نشتر ایسے ساتھیوں کی مخلصانہ تائید کے باوجود‘ عشروں کی ریاضت اور مسلسل مشاورت۔ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ مکانوں کو چھوڑیے‘پولیس اور عدلیہ کی اصلاحات کے منصوبوں کا کیا ہواشبر زیدی کہتے ہیں کہ ایف بی آر کے بائیس ہزار ملازمین میں سے بیس ہزار کرپٹ یا ناکارہ ہیں۔ سراج الدولہ کی 90ہزار فوج کی طرح جو تین ہزار برطانوی سپاہ سے ہار گئی تھی۔ تاجروں اور کارخانہ داروں کے سامنے ٹیکس وصول کرنے والے لاچار ہیں اور اصلاح کے لئے کپتان میں ایک قدم اٹھانے کی ہمت بھی نہیں۔

اپوزیشن لیڈر مالی طور پر بدعنوان ہیں اور ان کا احتساب لازم‘ مگر خسرو بختیار پر عائد الزامات کا جواب کیا ہے؟ بی آر ٹی پشاور کے ملبے کا بوجھ کب تک وہ اٹھاتے رہیں گے۔ کب تک اسٹیبلشمنٹ ان کا بوجھ اٹھائے رکھے گی؟ کب تک اپنی ذات کے گرداب میں گم رہیں گے! ذوالفقار علی بھٹو بھی ایک کرشماتی شخصیت تھے۔ پڑھے لکھے بھی بہت۔ بڑے خطیب‘ بڑے لکھاری اور اپنے عصر کے خم و پیچ سے آشنا۔ کیسے کیسے مشکل فیصلے انہوں نے صادر کیے۔ کیسے کیسے طاقتور ممالک کا سامنا کیا۔

آخر کو مگر کیا ہوا؟ خوئے انتقام انہیں تختہ دار تک لے گئی۔جن جنرلوں اور حریفوں کو حقیرجانا تھا‘ وہ ان کیلئے اللہ کا عذاب ہو گئے۔ اقتدار سے جنون اور غلبے کی جبلّت میں‘ دانش کا چراغ بجھ جاتا ہے۔ ذہن کام ہی نہیں کرتا۔ سب سبق بھول جاتے اورسب آموختے ہوا ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک بار پھر انہی کو مداخلت کرنا ہو گی‘ ایسے میں جو ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…