جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت‘‘روایات اور اخلاقیات کا درس دینے والے جنرل بپن راوت خود روایات بھول گئے

datetime 11  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن  لائن) دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت،روایات اور اخلاقیات کا درس دینے والے جنرل بپن راوت خود روایات بھول گئے۔بپن راوت یوم بحریہ کے موقع پر روایتی تقریب کے بجائے تعلیمی ادارے کے تاسیسی پروگرام میں پہنچ گئے۔ ملکی میڈیا  رپورٹ کے مطابق بھارت میں 4 دسمبر 1971ء  میں کراچی پر حملے کے باعث ہندوستانی بحریہ کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

روایت کے مطابق سروسز چیفس 4 دسمبر کو وار میموریل امر جوان جیوتی پر پھول چڑھاتے ہیں۔پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت روایت کے برعکس مہارانا پرتاپ سکھشا پریشد کی تقریبات میں مہمان خصوصی بن کر پہنچ گئے۔ رپورٹ کے مطابق سابق فوجی افسران کا کہنا ہے کہ  اگر تعلیمی ادارے میں شرکت ضروری تھی تو علاقے میں مسلمانوں کے تاریخی مدرسے میں بھی جایا جاسکتا تھا۔سابق فوجی افسران کا کہنا ہے کہ دارالعلوم دیو بند کے مدرسے میں جاکر بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام دے سکتے تھے۔جنرل راوت نے اپنی تقریر میں طلباء   کو  بھارتی ثقافت سمجھنے اور تلاش کرنے کی تلقین کی ۔ رپورٹ کے مطابق جنرل بپن راوت نے نیول چیف سے اختلافات کی بناء   پر بحریہ کے دن  میں شرکت نہیں کی۔روایت کے تحت چیف آف ڈیفنس سٹاف میموریل پر حاضری کے وقت سروسز چیفس کی قیادت کرتے ہیں۔ سابق فوجی افسر  ایچ ایس پنانگ  نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت نے فوجی روات کو نظر انداز کیا۔بپن راوت نے فوجی قواعد و ضوابط اور قوانین کی خلاف ورزی کی۔بپن راوت کی حرکت نے بھارتی فوج کے غیر سیاسی ہونے پر سوالیہ نشان لگادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…