پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی تیاریاں، افواج پاکستان دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کیلئے کیلئے ہائی الرٹ

datetime 9  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن) بھارت نے ایک بار پھر خطے کے امن کو تباہ کرنے کے لئے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر فالس فلیگ آپریشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سکھوں کے بھارت بھر میں احتجاج کے بعد مودی حکومت شدید دباؤ میں ہے، لداخ اور دو کلم میں ہزیمت اٹھانے کے بعد ہندوستان پر اندورنی و بیرونی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، ساتھ ہی سکھوں کے بھارت بھر میں

احتجاج کے بعد مودی حکومت شدید دباؤ میں آگئی ہے، اسی لئے بھارت نے خالصتان تحریک روکنے کیلئے کی شر انگیزی کی تیاری شروع کردی ہیں، تاکہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم ، عالمی میڈیا، اداروں کی تنقید سے بچا جاسکے۔بھارت اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے پلوامہ طرز کے ڈرامے کی تیاری کررہا ہے، اور ہندوستان پلوامہ طرزپر ایل او سی، ورکنگ باؤنڈری پر کسی ایکشن کی تیاری میں مصروف ہے، جس کے لئے ہندوستان بارڈر ایکشن یا سرجیکل اسٹرائیک کا سہارا لے سکتا ہے۔دو ہزار سولہ میں ہندوستان نے پاکستان میں ناکام سر جیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کیاتھا جبکہ 26فروری2019کو بھی ہندوستان نیایسیہی ناکام آپریشن کی کوشش کی تھی، جس پر اسے عالمی سطح پر ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی تیاریوں پر پاکستانی مسلح افواج کوہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔دوسری جانب ہندوستانی میڈیا بھی بالاآخر مودی کے خلاف بول اٹھا ہے، بھارتی میڈیا کی جانب سے بھی مودی حکومت کے خلاف مہم شروع کردی گئی ہے، بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت نے کارگل سے حاصل سبق کوبھلا دیا ہے، مودی سرکار ہندوستانیوں سے حقائق مت چھپاؤ۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ کارگل میں بھارت نے حقائق چھپائے ،زیب داستان کئی کہانیاں گھڑیں، بھارتی ملٹری نے حقائق کو اپنے زاؤیے سیدکھانا شروع کر رکھا ہے، مخصوص من گھڑت خبریں پسندیدہ چینلز کے ذریعے لیک کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ بھارت میں من گھڑت خبروں کے لئے انفارمیشن وار فیئر قائم کیا گیا ہے، حقیقت میں ڈوکلم کرائس دوہزار سترہ سے ابتک مودی حکومت بے یقینی کا شکار ہے اور حقائق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…