ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت میں معاونت کیلئے زبردست سروس متعارف

datetime 8  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان کی نمبر ایک آن لائن مارکیٹ پلیس او ایل ایکس (OLX) نے گاڑیوں کی خرید و فروخت کرنے والے افراد کو سہولت کی فراہمی کے لئے او ایل ایکس آٹو ز(OLX Autos) کے نام سے آٹو انسپیکشن سروس کا آغاز کیا ہے۔ یہ سروس فی الحال جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کے لئے متعارف کرائی جارہی ہے۔ سابقہ کار پرو

اور موجودہ او ایل ایکس کی آٹو انسپیکشن سروس کے تحت گاڑی کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے ، اس کے ساتھ جامع پوسٹ انسپیکشن رپورٹ بھی منسلک ہوتی ہے جس میں استعمال شدہ گاڑی کی بالکل درست حالت میں نشاندہی ہوتی ہے۔ او ایل ایکس انسپیکشن سروس سے گاڑیوں کی خرید و فروخت کرنے والے افراد کے وقت کی بچت ہوگی ، عام طور پر استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت سے خدشات منسلک ہوتے ہیں ، لیکن او ایل ایکس کی اس سروس کی بدولت کسی پریشانی یا کسی خدشے کے بغیر گاڑی کی خرید و فروخت کی جاسکے گی۔ یہ سہولت استعمال کرنا بھی نہایت آسان ہے کیونکہ گاڑی کے معائنے کا عمل صارف کی دہلیر پر بھی سرانجام دیا جاسکتا ہے۔ یہ معائنہ عام طور پر سند یافتہ انسپیکٹرز کی ماہر ٹیم کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اس معائنے کے دوران گاڑی کی باڈی ، کروم، حادثے کے نشانات یا بظاہر کسی نقصان، زنگ یا گلنا، انجن اور سسپنشن کے مسائل، غیرمناسب پینٹ، باڈی پر خراشیں، ڈینٹ اور دیگر نقائص کا 200 سے زائد مقامات پر تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ معائنہ رپورٹ ٹیسٹ ڈرائیور پر مشتمل ہوتی ہے جس کے ساتھ ٹائرز کا فزیکل انسپیکشن، پہیوں، سامان، انٹیرئیر سمیت بہت سارے پہلو شامل ہوتے ہیں۔ او ایل ایکس آٹو کے کنٹری ہیڈ فرحان نوید نے کہا، “گاڑی کی موقع پر خریداری کبھی بھی سادہ اور آسان کام نہیں رہا۔ لاہور اور کراچی میں قابل ذکر مطمئن صارفین کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی ویہکل انسپیکشن سروس کو مزید پھیلایا ہے اور فی الحال راولپنڈی و اسلام آباد میں

استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت میں سہولت فراہم کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ صارفین کو گھر بیٹھے گاڑیوں کا جامع معائنے کی بااعتماد سروس پیش کی جارہی ہے۔” اسلام آباد اور راولپنڈی میں او ایل ایکس کی انسپیکشن سروس کی توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ او ایل ایکس جدت انگیز، باسہولت اور پائیدار خدمات کے ساتھ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اپنے صارفین کو آسانی فراہم کرنے

کے لئے پرعزم ہے ۔او ایل ایکس پاکستان میں سال 2007 سے فعال ہے تاہم کیپ ٹاؤن میں سب سے بڑے ٹیکنالوجی انویسٹمنٹ گروپوں میں شامل ناسپرز نے سال 2011 میں پاکستان میں اپنی موجودگی میں وسعت لانے کا فیصلہ کیا تو اس کے بعد سے او ایل ایکس پاکستان اقسام کے شعبوں کی آن لائن مارکیٹوں کو پروان چڑھانے کے لئے کام کررہا ہے۔ رواں سال او ایل ایکس نے

متحدہ عرب امارت میں ڈبیزل ، او ایل ایکس لبنان، اور او ایل ایکس مصر کے ساتھ ای ایم پی جی بنا اور پاکستان کے اس پہلے یونی کارن کی مالیت 1ارب ڈالر ہے۔ او ایل ایکس کی ایپ 5 ملین سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہوچکی ہے اور ایک دن میں 20 ملین سے زیادہ پیج ویویز ملاحظہ کرنے کی شرح جنم لیتی ہے۔ ہر اشتہار پوسٹ ہونے کے دو سیکنڈز کے بعد ہی 50 ہزار سے زائد رابطوں کے تبادلے ہوتے ہیں۔

نیلسن کی تحقیق سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے جس میں اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان کی کلاسیفائیڈز اور شاپنگ کٹیگری میں کام کرنے والی کسی بھی دوسری ٹیکنالوجی کمپنی کے مقابلے میں او ایل ایکس پر ترجیحی اور آگہی 87 فیصد ہے۔ سیمیلر ویب کے مطابق او ایل ایکس (مقامی ڈومین۔ لوگوں کی دلچسپ/ ٹریفک کے اعتبار سے )پاکستان کا نمبر ایک ویب پلیٹ فارم ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…