ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

دھوکہ دہی کے ذریعے امریکا میں انشورنس پالیسی کلیم  کرنے والی خاتون اور بیٹے کی تصاویر منظر عام پر آگئی

datetime 6  دسمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی)جعلی موت کے ذریعے امریکا میں انشورنس پالیسی کلیم کرنے والی خاتون سیما کھربے اور اس کے بیٹے فہدکی تصاویر منظر عام پر آگئیں ۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے ) کے مطابق سیما کھربے کی انشورنس رقم وصول کرنے کے بعد 2012 میں فہد کراچی آیا اور

فہد نے پاکستان آنے کے بعد 3 اکاؤنٹس کھلوائے۔ایف آئی اے کے مطابق امریکا سے 64 ہزار ڈالر کی رقم ڈالر اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کی گئی، فہد نے وہ رقم دیگر دو اکاؤنٹس میں منتقل کی جب کہ ان ہی دو اکاؤنٹس سے کئی لوگوں کو رقم ادا کی گئی۔ایف آئی اے کے مطابق جن لوگوں کو رقم ٹرانسفر کی گئی ان سے متعلق بھی تفتیش جاری ہے۔ایف آئی اے حکام کے بیان کے مطابق سیما کھربے کا اپنے بہن بھائیوں سے آخری مرتبہ رابطہ 2014 میں ہوا جس کے بعد وہ اپنے بہن بھائیوں سے نہیں ملی جبکہ جس ڈاکٹر نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنایا اسے بیان کے لیے طلب کیا گیا تھا اور ڈاکٹر نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنانے کی تصدیق بھی کی۔دوسری جانب یونین کونسل سیکرٹری کا کہنا ہے گینگ وار کا دور تھا اسے نہیں پتا کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیسے بنا؟واضح رہے کہ سیما کھربے امریکن نیشنل ہیں جن کا آبائی تعلق سوات سے ہے اور وہ مقدمے دائر کیے جانے کے بعد سے پاکستان میں روپوش ہیں۔ایف آئی اے حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور اس جرم میں مرکزی کردار خاتون کے بھائیوں کا ہے جس کے بعد خاتون کے بھائیوں کو بھی مقدمے میں نامزد کر دیا گیا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق خاتون کے دونوں بچے بیرون ممالک ہیں جن کی تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ۔ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ امریکی کونصلیٹ کی جانب سے ایف آئی اے کو اطلاع دی گئی تھی، اطلاع ملنے پر خاتون کی ٹریول ہسٹری چیک کی گئی تو معاملہ سامنے آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…