پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک نے موت سے قبل کونسا کام کر گئے ، اللہ پاک نے انہیں کس کام کی توفیق دی ؟حیران کن انکشاف

datetime 4  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک /آن لائن) مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ یہ سویلین بالادستی کی جنگ لڑنے والے نواز شریف کا سوال ہے جسے اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دے کر ایک کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا۔ جج ارشد ملک کی موت سے پہلے انصاف کی موت کا جواب بھی دینا ہو گا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں مریم نوازنے

کہا کہ ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘جج ارشد ملک وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے۔اللّہ نے انہیں توفیق دی کہ وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بڑا بوجھ ہلکا کر گئےاور بتا گئے کہ انہیں کس نے نواز شریف کو جھوٹی سزا دینے کے لیےبلیک میل کیا استعمال کیا۔ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اللّہ ارشد ملک صاحب کی بخشش فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو ظالم بھی ہیں اور اقتدار اور طاقت کے نشے میں اندھے بھی ہیں۔ مجھے ایسے لوگوں کے انجام سے ڈر لگتا ہے۔ اللّہ ظالم کے ساتھ نہیں۔ ظالم برباد ہو کر رہے گا، یہ اللّہ کا نظام ہے۔مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ یہ سویلین بالادستی کی جنگ لڑنے والے نواز شریف کا سوال ہے جسے اقامہ کی بنیاد پر نااہل قرار دے کر ایک کٹھ پتلی کو مسلط کیا گیا۔ جج ارشد ملک کی موت سے پہلے انصاف کی موت کا جواب بھی دینا ہو گا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹوئٹ میں مریم نوازنے کہا میرا سادہ سوال یہ ہے کہ انصاف کے قتل کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس سازش کا انکشاف اور اعتراف کرنے والا کردار اب اس دنیا میں نہیں۔ اب یہ مطالبہ زور پکڑے گا کہ آزاد اور بہادر ججوں پر مشتمل کمیشن اس کی تحقیقات کرے تاکہ عوام حقائق جان سکیں۔ اور وہ دن دور نہیں انشاء اللہ یہ ہو کر رہے گا!۔3 بار کا وزیراعظم مفرور قرار دے دیا گیا لیکن نواز شریف کے خلاف عدالتی سازش پر کوئی کمیشن کیوں نہیں بنا؟ بہت کچھ بتانے کے لئے تیار شخص کی موت کا انتظار کیوں کیا گیا؟‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…