پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بوڑھی ماں کو مردہ قرار دے کر امریکی کی انشورنس کمپنی سے 25کروڑ روپے ہتھیانے والے بیٹوں کیخلاف وہ کام ہو گیا جس کا انہیں اندازہ بھی نہ تھا

datetime 4  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) اپنی بوڑھی ماں کو مردہ قرار دیکرامریکا کی انشورنس کمپنی سے 25 کروڑ روپے لینے والے بچوں کی گرفتاری کیلئے ایف آئی اے کے چھاپے شروع ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق بیٹے کی گرفتاری کیلئے ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سیل کی چھاپہ مارکارروائی شروع کردی۔واضح رہے کہ ایف آئی اے اینٹی ہیومن سرکل کراچی میں گزشتہ روز ایک

دلچسپ مقدمہ درج ہوا ہے جس میں منی لانڈرنگ کی دفعہ بھی لگائی گئی۔قومی موقر نامے جنگ کے مطابق میں شائع رپورٹ کے مطابق لیاری کی ایک رہائشی خاتون نے امریکا میں اپنی دو لائف انشورنش کروائیں،پھر سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر کی ملی بھگت سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوا کر 15لاکھ ڈالر (تقریباً 25کروڑ روپے) سے زائد رقم امریکا سے اس کے بیٹے نے کراچی منتقل کردی اور کراچی سے خطیر رقم منی لانڈر کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز عدالت میں جمع کروائی گئی ایف آئی آر نمبر 375/2020جو انسپکٹر اسٹیفن نے درج کی ہے، کے مطابق مذکورہ تحقیقات (انکوائری نمبر 418/19) کا مدعی کراچی میں امریکی قونصلیٹ کا اسسٹنٹ ریجنل سکیورٹی آفیسر اسکاٹ جے جیس ہے۔ مدعی کے مطابق ایک خاتون سیما سلیم کھربے نے 2008ء میں امریکن جنرل انشورنش سے 10لاکھ ڈالر کا بیمہ زندگی کروایا اور اس کا پریمیم بھی دینا شروع کردیا۔ اس کے بعد اس خاتون نے میٹ لائف انشورنش سے دوسری لائف انشورس حاصل کی اور پھر پاکستان آگئی۔ یہاں آکر اس کی بیٹی فاریہ سلیم کھربے نے 2011ء میں لیاری جنرل اسپتال کے ڈاکٹر حسن اختر اور سیکرٹری یونین کونسل ممتاز علی عباسی کی ملی بھگت سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوایا کہ سیما کا انتقال حرکت قلب بند ہوجانے سے ہوگیا اور اس کی لاش اسپتال لائی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…