اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پارلیمانی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ذیلی کمیٹیوں کے چیئرمین نیب ،ایف آئی اے اعلیٰ بیورو کریسی پر برس پڑے،شکایات کے انبار لگا دیئے

datetime 1  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد ( آن لائن)پارلیمانی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس میں ذیلی کمیٹیوں کے چیئرمین،قومی احتساب بیورو ،ایف آئی اے اور اعلیٰ بیورو کریسی پر برس پڑے اور کہا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی وزارتوں میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کا سب سے بڑا ادارہ ہے مگر نہ تو بیورو کریسی پی اے سی کے احکامات پر عملدرآمد کررہی ہے اور نہ ہی ایف آئی اے اور نیب کی

جانب سے پی اے سی سے تعاون کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے جتنے بھی  آج تک کرپشن کے کیسز  نیب اور ایف آئی اے کو بھجوائے گئے ان کی تحقیقات مکمل کر کے پارلیمانی پی اے سی میں پیش نہیں کی گئیں بلکہ مسلسل لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے جس کی وجہ سے پی اے سی کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے ۔پی اے سی  کے چیئرمین ذیلی کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے شدید تحفظات اور احتجاج کے بعد آئندہ اجلاس میں چیئرمین قومی احتساب بیورو جسٹس (ر) جاوید اقبال اور ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس چیئرمین رانا تنویر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں  ذیلی کمیٹیوں کے کنوینئرز نے بھی شرکت کی اور پی اے سی کی مجموعی کارکردگی ،بیورو کریسی کے عدم تعاون اور زیر التواء آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا ۔ذرائع کے مطابق کرپشن کیسز نمٹانے میں نیب اور ایف آئی اے تعاون نہیں کرتے۔ذیلی کمیٹیوں کے چیئرمین  اجلاس میں پھٹ پڑے اور کہا کہ  بیورو کریسی اور آڈٹ حکام بھی ہمارے احکامات پر عمل نہیں کرتے ،چیئرمینوں نے  شکایات کے انبار لگاتے ہوئے  مزید کہا کہ کہا کہ سرکاری افسران ہمارے اجلاسوں میں آتے ہیں نہ ہی ہمارے احکامات پر عمل ہوتا ہے۔آڈٹ حکام بھی آڈٹ پیراز کی پوری طرح تیاری کرکے نہیں آتے،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا آئندہ اجلاس میں چیئرمین نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ دونوں انسداد بدعنوانی کے ادارے ہیں مگر پی اے سی کے بھیجے کیسز پر آج تک رپورٹس نہیں دیں،سیاسی کیسز تو فوری ٹیک آپ ہوتے ہیں وزارتی کرپشن کے کیسز سالوں سے التواء  میں ہیں۔ چیئرمین نے تمام وفاقی سیکرٹریوں کو ہر ماہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ  ڈی اے سی نہ کرنے والے سیکریٹری کیوزارت کے آڈٹ اعتراضات نہیں سنیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…