اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پولیس نے تین بار اپنا موقف بدلا، پہلے پولیس نے کہا کہ گاڑی کو روکا اور گاڑی نہیں رکی،وکیل کا پولیس مقابلے پر آرمی چیف اور چیف جسٹس سے اہم مطالبہ

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)ڈیفنس میں مبینہ پولیس مقابلہ، علی حسنین ایڈووکیٹ نے آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔بنگلے کے مالک اور پی ٹی آئی رہنما لیلیٰ پروین کے شوہر علی حسنین ایڈوکیٹ نے تھانہ گذری میں میڈیا نمائندگان کے سامنے مبینہ پولیس مقابلے کا چیف جسٹس آرمی چیف اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئیے کہاکہ پولیس نے تین بار

اپنا موقف بدلا۔ پہلے پولیس نے کہا کہ گاڑی کو روکا اور گاڑی نہیں رکی۔ پھر پولیس نے کہا کہ گاڑی روک کر گھر میں داخل ہوئے۔ اہل محلہ کے گھروں پر بھی سی سی ٹی وی لگا ہوا تھا ان تمام کو ریمو کیا گیا ہے۔ میری والدہ ڈرائیور اور کزن کو گھر سے لے کر گئے۔ ٹوٹل فیک پولیس مقابلہ ہے۔ ایس ایچ او اور ڈی آئی جی سے ہماری ملاقات ہوئی ہے انہیں کچھ نہیں پتہ۔ اگر کسی کا کرمنل ریکارڈ ہے اسے عدالت میں پیش کرے نہ کہ ماورائے عدالت قتل کیا جائے۔ اس واقعہ کا نا ہی کوئی عینی شاہد ہے نا ہی میرے گھر پر کوئی خون کے نشان موجود ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما لیلی پروین نے کہا کہ میں ناحق قتل کے لئے آواز اٹھا رہی ہوں۔ میں اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں۔ ہم اسلام آباد میں تھے میرے ڈرائیور ساس اور نندکراچی میں موجود تھے۔ پولیس کی گھر میں داخل ہونے کہ اطلاع پڑوسی نے فون پر دی۔ میری ساس اور نند کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور ڈرائیور کو ساتھ لے گئے۔ میرے ڈرائیور کو بھگایا گیا اور پچھلی گلی میں لے جایا گیا۔ چار لوگوں کے ساتھ میرے ڈرائیور کو مار دیا گیا۔ میرے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ بھی ڈیلیٹ کر دی گئی ہے۔صبح سے پولیس کا مختلف موقف آ رہا ہے۔ پولیس کے بتائے گئے جائے وقوعہ میرے گھر پر خون کے نشان بھی موجود نہیں ہے۔ پولیس اہلکار ساڑے تین گھنٹے اسی لوکیشن پر رہے ہیں اور جعلی مقابلہ کیا ہے۔کوئی پروف پولیس کی جانب سے نہیں دیا گیا۔ میری گاڑی کسی کرمنل ایکٹیویٹی میں ملوث نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…