اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی دور میں مالیاتی خسارہ میں 70 فیصد کا اضافہ ہوچکا،کسی حکومت نے اتنے قرضے نہیں لئے، وزیراعظم کے پرانے ساتھی کی حکومت پر شدید تنقید

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) پی ٹی آئی حکومت کی مہربانی سے مالیاتی خسارہ 70 فیصد بڑھ چکا۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے اتنے ہی فاصلے پر ہیں جتنے قطب شمالی و جنوبی۔ اس سیاسی کھیل کود میں ان کیلئے عوام کی کوئی حیثیت نہیں۔ ان خیالات کا اظہار عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے ملکی سیاسی صورتحال اور کورونا وائرس کے تناظر میں کیا۔ انہوں نے اپنے

بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت سے قبل کسی بھی حکومت نے اس سطح کے اور اس رفتار کے قرضے نہیں لئے جتنے پی ٹی آئی اپنے قلیل دور حکومت میں لے چکی ہے۔ نتیجے کے طور پر مالیاتی خسارے میں 70 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ جہاں تک ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کا تعلق ہے تو حکومت اور اپوزیشن پی ڈی ایم پارٹیوں کے درمیان بعد قطبین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی پارٹیاں نیب کے خلاف اپنی جنگ جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے سے لڑنے پر بضد ہیں۔ اس کے باوجود کہ کورونا کی دوسری لہر کا گراف مسلسل اوپر کی طرف رواں دواں ہے۔ اس سیاسی کھیل کود میں عوام کی کیا حیثیت ہے۔ بلکہ کورونا کی اس وبا کے ذریعے ایک عالمی مطمع نظر انسانی آبادی کی کٹوتی کرنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا جہاں تک تعلق ہے کورونا کی پہلی لہر کے دوران 3.6 ارب روپیہ حکومت اور مخیر حضرات و اداروں نے مختص کیا تھا، اس میں سے صرف ساڑھے 13 کروڑ روپیہ ایکسپو سینٹر اور پی اے ایف میوزیم کو اسپتالوں کے طور پر مستعمل کرنے کیلئے لگایا گیا۔ باقی پیسے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ادویات اور آلات کی خرید میں صرف ہوا۔ نتیجتاً حکومت سندھ کے پاس دوسری لہر کے ضمن میں اصراف کیلئے اب تقریباً کچھ بھی نہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ وزیراعلیٰ جب کورونا سے صحت یاب ہوں گے تبھی مالیات کے بارے میں کچھ سوچا جاسکتا ہے۔ یعنی صحت کی وازرت یا محکمہ یا پھر مالیات کا محکمہ و وزارت تو جیسے سندھ حکومت میں سرے سے ہیں ہی نہیں۔ غرض یہ کہ وفاق ہو یا صوبائی حکومت ہو یا حزب اختلاف کسی قسم کا کوئی نظم و ضبط اس اسلامی فلاحی مملکت میں نام کو بھی نہیں رہ گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…