جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

سی پیک کے اہم منصوبے حسن ابدال حویلیاں موٹروے میں کروڑوں کی بدعنوانی سامنے آ گئی

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) سی پیک کا ایک اہم شاہراہ کا منصوبہ حسن ابدال حویلیاں موٹر وے جیسے ایکسپریس وے 35 میں مبینہ ایک ارب روپے سے زائد کی کرپشن اور مالی بدعنوانی سامنے آئی ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی کنسٹرکشن کمپنی غلام رسول اینڈ کمپنی اور چین کی چین گیزابو گروپ کمپنی لمٹیڈ کے جوائنٹ وینچر کے تحت مکمل ہوا تھا یہ منصوبہ بھی نواز شریف دور میں

شروع ہوا اور اس میں اربوں روپے کی کرپشن سامنے آئی ہے۔ این ایچ اے حکام نے ان دونوں کمپنیوں کو مٹی کی ریٹس اور شاہراہ کے اردگرد ہاٹ اور کناروں میں مٹی کی بھرائی کے نام پر ایک ارب 12 کروڑ روپے سے زائد کا اضافی فنڈز فراہم کئے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایکسپریس وے کے دونوں کناروں کی بھرائی (IPC21) کے تحت (2176 281 سی ایم) بھرائی کر کے کمپنیوں کو اضافی 63 کرور روپے دیئے گئے ہیں۔ کمپنیوں نے شاہراہ کے اردگرد 100 میٹر سے 250 میٹر تک کھدائی کر کے مٹی فاضل کی جو بعد میں ان نالوں کو بھرابھی نہیں گیا جبکہ 63 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز حاصل کر لئے گئے۔ مٹی کی بھرائی کے حوالے سے شاہراہ کی تعمیر کے معائدے مین یہ شق شامل بھی نہیں تھی۔ رپورت کے مطابق ایکسپریس وے 35 کے اردگرد مضبوطی سے تیار کئے گئے بندوں کے نام پر بھی 58 کروڑ روپے کی لوٹ مار کی گئی ہے ان بندوں کے نام پر کمپنی کو اضافی 58 کروڑ روپے ادا کر کے قومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 35 کا منصوبہ چار لین پر مشتمل تھا جس کی مجموعی لاگت 14 ارب روپے لگائی گئی تھی لیکن معائدے پر سائن ہونے کے بعد اس شاہراہ کی 6 لین کر دی اور کمپنیوں کو 18 ارب 70 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کر دی گئیں اور جب چار لین سے سڑک چھ لین کی گئی تو متعلقہ حکام نے اس حوالے سے کمپنیوں

کو منہ مانگے فنڈز دے دیئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حویلیاں تھاہ کوٹ شاہراہ کی تعمیر میں چین کی کمپنی چائنا کمیونیکیشن کو 133 ارب روپے کی ادائیگی کرتے وقت غیر ملکی کرنسی کے ریٹ میں ردوبدل کر کے 34 کروڑ روپے سے زائد کے ناجائز فنڈز دیئے گئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…