اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا ضابطہ اخلاق کی  خلاف ورزی پر کریک ڈائونتین سو سے زائد دکانوں اور درجنوں مارکیٹوں کو سیل کر دیاگیا 32 دکاندار  گرفتار

datetime 24  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

پشاور(آن لائن)ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغرکی ہدایت پراسسٹنٹ کمشنر (سٹی) ڈاکٹر احتشام الحق نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شفیق آفریدی اورایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کاشف جان نے قصہ خوانی بازار میں تین سو دکانوں اور درجنوں مارکیٹوں کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا۔ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر تنزیل الرحمان نے یونیورسٹی روڈ پر مختلف پلازوں اور دکانوں کا

معائنہ کر تے ہوئے کورونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بیشتر کو سیل کر دیا۔ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد ارشدآفریدی اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر آفتاب احمد نے متنی اور کوہاٹ روڈ پر مختلف دکانوں کا معائنہ کیا۔ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر حبیب اللہ نے حیات آباد میں مختلف دکانوں کا معائنہ کیا۔ کاروائیوں کے دوران قصہ خوانی بازار میں تین سو سے زائد دکانوں اور درجنوں مارکیٹوں کو سیل کر دیا۔قصہ خوانی بازار میں حبیب بینک کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا گیا۔ہشتنگری کے علاقے میں دکانوں کی سیل توڑ کر دکانیں کھولنے پر 32 دکانداروں  کوگرفتارکر لیا گیا۔رنگ روڈ پر رومان شادی ہال، پیلس شادی ہال اور عطا ء شادی ہال کو سیل کر دیا گیا۔جی ٹی روڈ پر پشاور گیڈرنگ اور پیراڈائز شادی ہالوں کو سیل کر دیا گیا۔حیا ت آباد میں ٹیک ایند ٹیسٹ، سپرنگ کیفے ریسٹورنٹ، چکن فائر، رن ڈی بیل، المائدہ ، انصاف جوس، ایٹ اینڈ ٹریٹ، چک فیلہ اور ٹرائی فیٹکا ریسٹورنٹس کو سیل کر دیا گیا۔متنی کے علاقے میں دو بھٹہ خشت سیل کر دے گئے ۔یونیورسٹی روڈ پر سپین زر پلازہ میں بیشتر دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔یونیورسٹی روڈ پر سپوگمئے پلازہ میں بیشتر دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔یونیورسٹی روڈ پر السید پلازہ میں بیشتر دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔یونیورسٹی روڈ پر دو ریسٹورنٹس کوضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا گیا۔۔ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کے مطابق ان ریسٹورنٹس و دکانوںو ہوٹلوںو دیگر میں ضابطہ اخلاق کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جارہی تھیں اور بار بار نوٹس کے باوجود سیفٹی ماسک استعمال نہیں کیے جا رہے تھے جس پر ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کر تے ہوئے ان کو سیل کر دیا۔ انھوںنے تاجر برادری اور عوام سے اپیل کی کہ بازاروں میں رش نہ بنائیں اور حکومتی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کریں بصورت دیگر قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…