جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

رابی پیرزادہ نے اپنے ہاتھ سے قرآن پاک کا تیسرا پارہ بھی لکھ لیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)شوبز کو خیر باد کہنے والی رابی پیرزادہ نے اپنے ہاتھ سے قرآن پاک کا تیسرا پارہ بھی لکھ لیا ۔ تفصیلات کے مطابق رابی پیرزادہ شوبز ان دنوں اپنے ہاتھ سے قرآن مجید لکھنے میں مصروف ہیں اور انہوں نے قران مجید کا تیسرا پارہ مکمل کر لیا ہے اوروہ اپنے ہاتھ سے

پورا قرآن مجید لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے رابی پیرزادہ کا کہنا ہے کہ خدا کی ذات کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے مجھے اس عظیم کام کیلئے منتخب کیا ۔شوبز کی چمکتی دمکتی دنیا کو چھوڑ کر خدا کے راستے پر چل پڑنا بڑی سعادت ہے اور میں ہدایت ملنے پر اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ زندگی کے راستے میں بے شمارغلطیاں ہوئیں لیکن اب خدا کی راہ پر چل کر جو دلی سکون ملا ہے اسے الفاظ نہیں دئیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے غریبوں کی مدد کیلئے بھی کام شروع کر رکھا ہے اور خدا کا شکر ہے کہ وہ مجھے جو کچھ عنایت کرتا ہے وہ میں غریبوں میں تقسیم کر دیتی ہیں اور میری صاحب ثروت لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ اس کار خیر میں شامل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوںنے قرآن مجید لکھنے میںمیری معاونت اور رہنمائی کی میں ان سب کی دلی طور پر مشکور ہوں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…