جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں کو پاکستان سمگل کرنے کا الزام، سابق شوہر اسد خٹک کا ہرجانے کا نوٹس، وینا ملک کا جواب بھی آگیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)اداکارہ و میزبان وینا ملک کے سابق شوہر اسد خٹک نے وینا ملک پر بچوں کو غیرقانونی طور پر پاکستان اسمگل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے 50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔اسد خٹک نے اربابِ اختیار سے  درخواست کی کہ مجھے انصاف دلوائیں اور مجھے میرے بچے ابرام اسد خان اور امل اسد خان لوٹا دیں۔گزشتہ روز اسد خٹک نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر

تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’بہت سوچا لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، میری خاموشی کو بزدلی سمجھا گیا۔ مجھے امید ہے کہ ایک باپ کو انصاف ملے گا کیونکہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ جس اذیت سے میں گزر رہا ہوں کسی کو جواب دینا ہوگا۔ میں نے وینا ملک کو 50 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا ہے۔اسد خٹک کے مطابق ’وینا ملک نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باجود  مجھے اپنے بچوں سے ملنے دیا ہے اور نہ بات کرنے دے رہی ہے۔ تنگ آکر مجھے قانونی راستہ اپنانا پڑا اور دبئی کورٹ نے بھی میرے حق میں فیصلہ دیا، لیکن وینا فرار ہوئی اور بچے متحدہ عرب امارات سے پاکستان سمگل کر دیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ’میرے دونوں بچے امریکی شہری ہیں۔ وینا ملک نے نا صرف مجھے دھوکا دیا بلکہ دبئی حکومت کو بھی چکمہ دے کر بچوں کو پاکستان لے آئی۔ اب ان سب باتوں کا جواب کورٹ میں دینا ہوگا۔ دو امریکی شہری کس طرح دبئی سے پاکستان اسمگل ہو گئے۔ پاکستانی حکومت کہاں ہے۔اسد خٹک نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں سابقہ اہلیہ پر الزام عائد کیا کہ ’ان سب کے باوجود میری ہی کردار کشی کی گئی۔ مجھے اور میرے خاندان کو دھمکیاں اور ہراساں کیا گیا۔ میرا کرئیر تباہ اور میرے ساتھ بازاری زبان استعمال کی گئی لیکن انسان کا سب بڑا اثاثہ اس کی اولاد ہوتی ہے، جن کی آنکھوں سے نور چھن جائے ان کے صبح شام ایک برابر ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…