جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

تیسری عالمی جنگ کا خدشہ،برطانوی ڈیفنس چیف نے عالمی قوتوں کو خبردار کر دیا

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن(آ ن لائن) برطانیہ کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف سر نک کارٹر نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی بحران کی وجہ سے تیسری جنگ عظیم کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق معاشی بحران نے عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کی وجہ سے جنم لیا ہے۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف سر نک کارٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ سمیت پوری دنیا کو تاریخ سے

سبق حاصل کرنا چاہیے۔سر نک کارٹر نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی سطح پر جو اقدامات 20 ویں صدی کی جنگوں کا سبب بنے تھے ان کے متعلق آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف سر نک کارٹر نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ پوری دنیا میں جاری علاقائی تنازعات سے ممکنہ جنگ چھڑنے کا خوف موجود ہے۔ٹی وی پروگرام کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 20 ویں صدی میں ہونے والی جنگیں مختلف ممالک کے اتحاد سے قائم ہونے والی سیاسی تنظیموں کا نتیجہ تھیں جن کا مقصد صرف اپنے مفادات کا دفاع تھا۔تاریخ کے مطالعے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سر نک کارٹر نے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران پوری دنیا میں موجودغیر یقینی کی کیفیت اور پریشان کن صورتحال میں کسی بھی قسم کی جارحیت انتہائی غلط اقدام کا سبب بن سکتی ہے۔دنیا میں لڑی جانے والی جنگ عظیم اول اور دوئم کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف سر نک کارٹر نے کہا کہ اس وقت بھی ممالک کی جانب سے جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور پھر غلط اندازے لگائے گئے جو جنگ کا نتیجہ بنے۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں ں ے اس توقع کا اظہاربھی کیا کہ تاریخ دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ علاقائی تنازعات سے نمٹا جائے اور تمام تر خطرات کا بھرپور اداراک رکھا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…