منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

21 ویں صدی میں سب سے زیادہ اموات کس بیماری سے ہونگی،تحقیق میں ہوشربا انکشافات

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لندن(این این آئی )ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 21 ویں میں سب سے زیادہ اموات کینسز کے باعث ہوں گی۔میڈیارپوٹس کے مطابق برطانیہ کے دی لینسٹ اونکولوجی جنرل میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ طبی ماہرین نے ماحولیاتی تبدیلی کے مستقبل میں انسانی صحت بالخصوص کینسر پر پڑنے والے مضر اثرات کے حوالے سے تفصیلی مکالہ لکھا ہے۔محقیقین کے مطابق عالمی سطح پر

کینسر کے چیلنج کے حوالے سے سب سے واضح تصویر انسان کے مشکل ہیلتھ کیئر سسٹم کے تباہ ہونے سے حاصل کی جا سکتی ہے جس کے لیے موذی مرض کی تشخیص، ان کا علاج اور حفاظت کی ضرورت ہے۔مکالے کے مرکزی مصنف رابرٹ اے ہییٹ کا کہنا تھا کہ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے حوالے سے عالمی برادری گرین ہائوسز سے خارج ہونے والی آلودہ گیسز کو کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کا صحت پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے جو بغیر کسی فوری ایکشن کے بڑھتا رہتا ہے۔ زیادہ درجہ حرارت، آلودہ ہوا اور جنگل میں لگنے والی آگ سانس اور دل کی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں جب کہ گرم درجہ حرارت اور بارشوں کے اوقات کار میں تبدیلی سے ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔تحقیق کے مطابق انتہائی مرطوب درجہ حرارت اموات، انجری، عوام کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اور ہیلتھ کیئر سسٹم میں خلل کا باعث بنتا ہے۔مصنفین کا کہنا تھا کہ کینسر کا سب سے بڑا خطرہ ہوائی آلودگی، خطرناک الٹرا وائلٹ شعاعوں، صنعتی فضلے اور پانی اور غذائی اجناس میں ملاوٹ ہے۔گردوں کا کینسر جو پہلے ہی دنیا میں موذی مرض سے ہلاکت کی سب سے بڑی وجہ ہے، ہوائی آلودگی کی وجہ سے اس کے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ 15 فیصد نئے کیسز کی وجہ بھی بنتا ہے۔محققین نے ایک جامع تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے غذائی اجناس کی ترسیل (فوڈ سپلائی)میں کی جانے والی تبدیلیوں کے باعث 2050 تک 5 لاکھ افراد کی اموات متوقع ہے۔اس کے علاوہ کینسر کو کنٹرول کرنے کے لیے ہیلتھ کیئر سسٹم کے انفرا اسٹرکچر میں بڑی تباہی بھی متوقع ہے جو تمام اقسام کے کینسر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا اس رکاوٹ کی ایک بڑی واضح مثال ہے کہ جس کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی اسکریننگ کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ اس سے طبی عملے کو بھی وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔مصنفین کا کہنا تھا کہ آلودگی کو کم کر کے پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے اور کینسز کے کیسز اور اموات کی شرح کو کم کرنے کے لیے متعدد کلینکل، نفسیاتی اور پالیسی حل موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…