منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ساگ کھانے کے انسانی جسم کو ہونے والے بے شمار اور حیران کن فوائد

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) موسم سرما میں آسانی سے دستیاب سب سے زیادہ کھائی جانے والی سبزی ساگ کے استعمال سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں جسے نظر انداز کیے بغیر متعدد طریقوں سے پکا کر کھایا جا سکتا ہے۔ماہرین غذائیت کے مطابق ہرے پتوں والی سبزی ساگ کے استعمال سے انسانی مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس میں موجود آئرن کی بھرپور مقدار خون کی

کمی کا خاتمہ کرتی ہے اور نظام ہاضمہ سے جڑی شکایتوں کو دور کرتی ہے جبکہ مدافعتی نظام مضبوط بناتی ہے۔ماہرین غذائیت کے مطابق سرسوں کے ساگ کے ایک کپ میں 196 کیلوریز پائی جاتی ہیں جبکہ 613 ملی گرام سوڈیم، 839 ملی گرام پوٹاشیم، 5.2 گرام پروٹین، 9.7 گرام کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں اور وٹامن اے 205 فیصد، وٹامن سی 134 فیصد ، 19 فیصد کیلشیم ، اور 33 فیصد آئرن پایا جاتا ہے ۔سرسوں کے ساگ کے استعمال سے آئرن کی کمی کے نتیجے میں پیش آنے والی شکایات سے نجات ملتی ہے، آئرن سے بھر پور ہرے پتوں والی سبزی انسانی جسم میں خون میں موجود ہیموگلوبن خلیات کی افزائش میں کردار ادا کرتی ہے جس سے قدرتی طور پر خون کی کمی کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ساگ ایک آسانی سے ہضم ہو جانے والی غذا ہے، ساگ میں میں فائبر کی موجودگی آنتوں اور معدے سے جڑی شکایات سے چھٹکارہ دلاتی ہے، نظام ہاضمہ درست بناتی ہے اور میٹابالز کی رفتار تیز کر کے سردیوں کے دوران بد ہضمی کی شکایت بھی دور کرتی ہے۔سردیوں کے دوران بیشتر افراد میں پیٹ پھولنے کی شکایت بڑھ جاتی ہے جس سے بیٹھنے اُٹھنے میں بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پیٹ کا پھول جانا یا پیٹ میں ہوا بھر جانے سے نجات حاصل کرنے کے لیے ساگ کا بطور غذا استعمال کیا جا سکتا ہے۔مکئی کا آٹا گلوٹن فری اور تاثیر میں گرم ہوتا ہے، مکئی کی روٹی بنائیں اور اسے سردیوں کی مشہور اور لذیذ غذا ساگ کے ساتھ استعمال کریں، آئرن سے بھرپور ساگ میں وٹامن بی کمپلیکس، وٹامن اے، وٹامن سی ، وٹامن ، بیٹا کیروٹین اور سیلینئین پایا جاتاہے جو کہ جلد، بال ، دل اور دماغ کی صحت سمیت ہاضمے کے لیے بھی بہترین ہے۔ساگ قوت مدافعت کے لیے بھی بے حد مفید ہے، گرم تاثیر رکھنے کے باعث ساگ سردیوں میں ٹھنڈ لگنے سے بھی بچاتا ہے اور جسم م یں حرارت برقرار رکھتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…