پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

عمران خان اور طیب اردوان کے مابین ٹیلی فونک رابطہ دونوں رہنمائوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟تفصیلات آگئیں

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

اسلام آباد،نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی )وزیراعظم عمران خان کا ترک صدر رجب طیب اردوان کوٹیلی فون ، زلزلے کے باعث ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی، وزیراعظم نے ازمیر میں زلزلے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی

اور کہا کہ پاکستانی عوام دکھ کی اس گھڑی میں ترک بھائیوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں،2005 کے زلزلے کے دوران ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔اعلامیے کے مطابق دونوں رہنمائوں نے پشاور مدرسہ پر دہشت گرد حملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ عمران خان نے کہا کہ پشاور میں بزدلانہ دہشت گرد حملہ پاکستان کے دشمنوں نے کیا۔دونوں رہنمائوں نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر بات چیت بھی کی،رہنمائوں نے مغربی دنیا خصوصا ًیورپ میں اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔ عمران خان نے کہا کہ مسلم دنیا کے رہنمائوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف مل کر آگے بڑھنا چاہیے، مسلمان رہنما مغربی دنیا کے اپنے ہم منصبوں کو پیغمبر اکرمۖ کے ساتھ تمام مسلمانوں کی محبت سے آگاہ کریں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یورپی ریاستوں کے ہولوکاسٹ سے انکار کو مجرم قرار دینے کے قوانین موجود ہیں اس لیے ہولوکاسٹ کی طرح مغرب کو پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کا احترام

کرنا چاہیے، مغرب کو اظہار رائے کی آزادی کے جارحانہ اقدامات کے جواز بخشنے سے باز رہنا چاہیے۔دونوں رہنمائوں نے پاک ترک وزرائے خارجہ کی ملاقات پر بھی اتفاق کیا، دونوں وزرائے خارجہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کی کوششوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر

بات کریں گے۔دریں اثنا فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور صدر میکرون کے مسلم دشمن رویے کے خلاف نیویارک میں فرانسیسی قونصلیٹ کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ شدید بارش کے باوجود بچوں اور بزرگوں سمیت سیکڑوں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے

زبردست نعرے بازی کی اور فرانس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق نیویارک میں مظاہرہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ سمیت مختلف مسلم تنظیموں کی اپیل پر کیا گیا۔ جس میں مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین

اور شرکا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور ان ۖ کی شان میں گستاخی برداشت نہں کی جائے گی۔مقررین کا کہنا تھا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ فرانس نے جو مسلم دشمن رویہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی غلط ہے۔ فرانسیسی صدر کے معافی نہ مانگنے تک فرانس کا بائیکاٹ کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…