بنوں (آن لائن) ہوم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سابقہ خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں کی سروس معاملات میں خلل ڈالنے کا انکشاف, ضم اضلاع کی فورس میں یہ بے چینی پیدا ہونے لگی ہے کہ کیا وہی سابقہ دور تو دہرایا نہیں جا رہا، فاٹا انضمام کے بعد
فاٹا سیکرٹریٹ کو بھی ختم کر دیا گیا, جس کے بعد سابقہ فاٹا کی سرکاری نوکریوں کی تمام تر معاملات ہوم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کئے گئے خیبر پختونخوا پولیس میں انضمام کے وقت قبائلی فورس نے احتجاجی تحریک شروع کی اور انہوں نے 22 نقاط پر مشتمل مطالبات پیش کئے ساتھ میں یہ بھی مطالبہ کر رہے تھے کہ ان کی نوکریوں کی معاملات میں بیوروکریسی خلل ڈال رہی ہے پولیس میں انضمام کے بعد اب ایک بار پھر ان اہلکاروں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کیا دوبارہ ہمیں اس دور میں نہیں گھسیٹا تو نہیں جا رہا جس سے ہم بامشکل نکل آ چکے ہیں, کیونکہ اہلکار سے صوبیدار میجر تک کہ قبائلی فورس کی فائلوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ہیں ذرائع نے بتایا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ میں انتظامی امور چلانے کیلئے تین آفسران کا تبادلہ کیا گیا ہے جس کے پاس قبائلی فورس کی نوکریوں کے معاملات اور فائل پڑے ہیں لیکن وہ حل کرنے کے بجائے اس میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں جس طرح پہلے دور میں انتظامیہ ہمارے ساتھ کر رہی تھی وہی دہرایا جا رہا ہے۔