بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

ٹرین حادثہ ،نہرسے تمام لاشیں نکال لی گئیں

datetime 5  جولائی  2015 |

لاہور/گوجرانوالہ(نیوزڈیسک) پاک فوج کی ریسکیو ٹیم نے وزیرآباد کے قریب ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کی لاشیں نہر سے نکال لیں۔ ریلویز کی ٹیموں نے بھی تین بوگیوں کو پانی سے کھینچ کر نکال لیا۔یہ حادثہ جمعرات روز گوجرانوالہ میں پیش آیا تھا، جبکہ کھاریاں جانے والی خصوصی ٹرین جس پر فوجی اہلکار سوار تھے اور اس پر فوجی سامان رکھا ہواتھا، جامکے چٹھہ کے قریب ایک نہر میں گرگئی تھی۔ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں نہر میں گرنے سے کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ 85 زخمی ہوگئے تھے۔فوجی افسران کی میتیں گوجرانوالہ کنٹونمنٹ میں نمازِ جنازہ کے بعد ان کے آبائی قصبوں کو بھیج دی گئیں۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور سینئر افسران نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔اسی دوران ریلویز اور فوجی حکام پر مشتمل ایک انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی تھی، جو اس حادثے کی وجوہات کا تعین کرے گی۔ریلویز کے وفاقی انسپکٹر میاں محمد ارشد کی سربراہی میں قائم یہ سات رکنی ٹیم اپنی رپورٹ 72 گھنٹوں میں پیش کرے گی۔ اس ٹیم کے دیگر اراکین میں میجر جنرل شہزاد سکندر، بریگیڈیئر نسیم بیگ، اور کرنل محمدفہیم سمیت ریلویز کے ایڈیشنل جنرل منیجر (میکینکل) لیاقت چغتائی، اے جی ایم (انفراسٹرکچر) ہمایوں رشید اور چیف میکینکل انجینئر (لوکوموٹیو) مجید بیگ شامل ہیں۔ایک طرف فوج اور ریلویز کے تفتیش کاروں کی ٹیم تشکیل دی گئی، جبکہ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ اس حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے اب بھی سراغ کی تلاش کررہی تھی۔
توقع ہے کہ یہ انوسٹی گیشن ٹیم اس حادثے سے متعلق افواہوں کو دور کرے گی، اس حوالے سے کنفیوژن جمعے کے روز بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔
جمعرات کو ریلویز کے حکام نے اشارہ دیا تھا کہ ممکن ہے کہ فش پلیٹوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو، یہ پلیٹیں دو ٹریکس کو جوڑ کر رکھتی ہیں۔ یہ حادثے کی ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہوسکتا ہے۔
اس نشاندہی سے اشارہ لے کر کچھ نجی ٹیلیویژن چینلز فوراً یہ نتیجہ نکال لیا کہ کچھ فش پلیٹیں حادثے کے مقام پر ٹوٹی ہوئی پائی گئی تھیں۔جبکہ دوسروں کا کہنا تھا کہ نٹس اور بولٹس نے ٹریکس کے حصوں پر دباؤ ڈال کر متاثر کیا، جو جائے وقوعہ سے چند میٹر دور پائے گئےتھے۔ایک چینل نے دعویٰ کیا کہ ٹرین پل پر پہنچنے سے کم از کم ایک کلومیٹر پہلے پٹری سے اترگئی تھی، جس سے وہ پٹری پر دباؤ برقرار نہیں رکھ سکی اور نیچے گر گئی۔ریلویز کے ایک عہدے دار نے فوری طور پر ان افواہوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حتمی رپورٹ آنے کا انتظار کیا جائے۔ انہوں نے کہا ’’محض بولٹس نکال دینے سے پل منہدم نہیں ہوجاتا۔‘‘



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…