منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

الرجی کاباعث بننے والی غذائیں، ان سے دور رہیں ورنہ۔۔۔ماہرین طب نے متاثرہ افراد کوخبر دار کردیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عام طورالرجی کا شکار لوگ موسم کی خرابی کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن ماہرین طب کا کہنا ہے کہ الرجی کی وجہ صرف موسم نہیں بلکہ کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جن کو کھانے سے الرجی ہوجاتی ہے ان میں چند ایسی غذائیں شامل ہیں جو

عام طور پر شوق سے کھائی جاتی ہیں لیکن بہت سے لوگوں میں الرجی کا باعث بن جاتی ہیں۔ مونگ پھلی: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مونگ پھلی 0.4 فیصد سے لے کر 0.6 فیصد لوگوں کو متاثر کرتی ہے جس سے ہونے والی الرجی غذائی نظام، جلدی اور دمہ جیسی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ سویا بین: سویا بین میں فیٹو ایسٹروجن اور فائبر کی کی بڑی مقدار میں موجودگی الرجی کا باعث بنتی ہے اور جو پیٹ میں گیس، منہ سوجن، پیٹ میں سوزش، پیٹ کا درد اور ہیضہ کا باعث بنتا ہے۔ سبزیاں: ماہر طب کے مطابق گاجر، پالک، گوبھی، پیاز، ادرک، پھول گوبھی، آلو اور کدو ایسی سبزیاں ہیں جو الرجی کا باعث بن سکتی ہیں ان سے جلد پر لال نشان، پیٹ کا درد اور گیس جیسی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ پھل: اسی طرح اسٹرابری، کیلا، مالٹا اور انگور بھی کچھ لوگوں میں الرجی کا باعث ہوسکتے ہیں کیوں کہ ان میں ترش پن ہوتا ہے اس لیے ان سے عام طو پر اٹوپک الرجی ہو سکتی ہے۔ گندم کا آٹا: گندم کا آٹا بھی کچھ لوگوں میں الرجی کی وجہ بن

سکتا ہے اس سے سیلک یا شکم میں سوزش جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ سیلک انسانی جسم میں موجود چھوٹی آنت کو متاثر کرتی ہے اور اس کو اہم غذائی اجزا کو جذب کرنے کی صلاحیت سے محروم کردیتی ہے یہ الرجی جو اورگیہوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔ گائے کا دودھ:

گائے کے دودھ میں پروٹین کیسین اور بٹا لیکٹو گلوبن نامی الرجی عناصر موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ لوگوں میں گردے کی تکلیف ہوسکتی ہے اس سے دیگر الرجی ری ایکشن میں پیٹ کا درد اور پیچس ہوسکتے ہیں۔ انڈے: کچھ لوگوں میں انڈے کھانے سے الرجی ری ایکشن

ہوجاتا ہے جس سے جلدی بیماری کوٹا نیوس ہوسکتی ہے۔ مچھلی اور گوشت: مچھلی اور گوشت کھانے سے انفیکشن اورٹیکیریا، آنتوں کا درد اور کچھ کیسز میں دمہ جیسی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ کولڈ ڈرنکس اور جوسز: کولڈ ڈرنکس اور جوسز کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزا الرجی کا باعث بن سکتے ہیں جس سے پیٹ کا درد اور گیس جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے جن لوگوں کو ان غذاوں سے الرجی ہوتی ہے وہ ان کے استعمال سے گریز کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…