پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات ختم، خوشخبری آ گئی

datetime 20  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان کے فناننشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات ختم ہوگئے۔ نجی ٹی وی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ پاکستان منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ پر ہوم ورک مکمل کرلیا اور تمام قانونی ضروریات پوری کر لیں، پاکستان کی جانب سے 21 اقدامات کو رپورٹ کردیا گیا ہے جس کے بعد پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس

میں پاکستان گرے لسٹ میں رہے گا۔ پاکستان نے 27 میں سے 21 سفارشات پر عمل درآمد کیا جس کے بعد اس کے بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات ختم ہو گئے۔ جون 2021 میں پاکستان گرے لسٹ میں سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت نے اس معاملہ کو سیاسی رنگ دیا اور پاکستان کو بلیک لسٹ کرنی کی بھر پور کوشش کی اور ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک سر رابطے بھی کیے۔ پاکستان نے باقی چھ شقوں پر بھی 20 فیصد کام مکمل کرلیا ہے اور پارلیمنٹ سے بھی قانون سازی کے ذریعے 16 کووئیریز کو دور کردیا گیا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے زیربحث معاملات کو باہر میڈیا میں یا کسی بھی فورم پر ڈسکس نہیں کرسکتا. مگر بھارت نے ہمیشہ اس کی خلاف ورزی کی،بھارت کی باری آئے گی تو بھارت کو سوالات کا جواب دینا پڑیگا۔ذرائع کے مطابق جون سے قبل پاکستان باقی چھ شقوں پر عملدرآمد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ تاہم 23 اکتوبر سے شروع ہونے والی پلانری میں پاکستان گرے لسٹ سے باہر بھی نہیں آ سکے گا، پاکستان اینٹی منی لانڈرنگ کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف کے زیادہ تر ایکشن پوائینٹس پر عملدرآمد مکمل کر چکا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کو فراہم کردہ ایکشن پوائینٹس میں بقیہ ایکشن پوائینٹس میں سے زیادہ تر اینٹی ٹیرر فنانسنگ سے متعلقہ ہیں. ایف اے ٹی ایف کے انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ کی رپورٹ میں

پاکستان کے 21 ایکشن پوائینٹس پر عملدرآمد تسلیم کیا گیا۔ امید ہے کہ آیندہ برس کی پہلی ششماہی میں پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکل جائے گا۔آئندہ برس فروری کی پلانری میں پاکستان کو ان سائیٹ وزٹ مل سکتا ہے۔ان سائیٹ وزٹ میں ایف اے ٹی ایف کے اراکین پاکستان کا دورہ کر کے ایکشن پوائینٹس پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے۔ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف

نے پاکستان کو کمپلائنس کے لیے 27 ایکشن پوائنٹس فراہم کیے تھے. اب تک پاکستان 21 ایکشن پوائنٹس پر عملدرآمد کر چکا ہے. موجودہ برس فروری تک پاکستان نے 14 ایکشن پوائنٹس پر عمل درآمد کیا تھا۔واضح رہے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس ان کیمرہ منعقد کیے جاتے ہیں۔ کوئی بھی ملک ان اجلاسوں کی کاروائی کی تفصیلات کا تبادلہ نہیں کر سکتا، جب تک پاکستان ایف اے

ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکلتا اس کا رکن نہیں بن سکتا،پاکستان کو ایکشن پوائنٹس پر عملدرآمد کے لیے اکتوبر 2019 کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی بعدازاں جس میں توسیع کردی گئی تھی۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق آئندہ

برس کی پہلی ششماہی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس بھارت کی میوچل ایویلیوایشن کرے گا۔ بھارت کی میوچل ایویلیوایشن میں 44بھارتی بینکوں کے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہونے کاجائزہ لینے کاامکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…