پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بحریہ ٹائون سے وصول ہونے والے 460ارب روپے سندھ کو ملیں گے یا وفاقی حکومت کو؟سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جمع کروائے فنڈز کو منصوبوں پر خرچ کرنے کیلئے 11 رکنی کمیشن تشکیل دیدیا۔ منگل کو جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس فیصل عرب اور جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ

نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے ادا کیے جانے والے فنڈز کو حکومت سندھ کیلئے جاری کرنے اور وفاقی حکومت کے اکاؤنٹس میں جمع کروانے کی دو مختلف کی درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین، بحریہ ٹاؤن پاکستان لمیٹڈ کی جانب سے سید علی ظفر اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے۔سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی جانب سے فنڈز کے استعمال کیلئے کمیشن بنانے کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ فنڈ ایک اعلیٰ سطح کے کمیشن کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔عدالتی حکم کے مطابق کمیشن سندھ میں ضرورت کے مطابق نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرے گا، پہلے سے جاری منصوبوں پر بحریہ ٹائون کا ملنے والا پیسہ خرچ نہیں ہوسکے گا۔کمیشن کا ایک چیئرمین اور 5 ووٹنگ اراکین ہوں گے جو مستقل سندھ کے رہائشی اور کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوں گے ، چھ نان ووٹنگ اراکین اپنے عہدوں کی وجہ سے یہ پوزیشن حاصل کریں گے۔

کمیشن کے سربراہ کو سپریم کورٹ مقرر کرے جو سندھ سے تعلق رکھنے والے عدالت عظمیٰ کے ریٹائر جج یا کوئی سابق سرکاری عہدیدار ہوسکتے ہیں۔کمیشن کے ووٹنگ اراکین میں چیئرمین کے علاوہ گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ کا نامزد کردہ ایک ایک نمائندہ، اٹارنی جنرل پاکستان

، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، کمیشن کی تجویز کردہ ایک خاتون شامل ہوں گی جو نہ تو سرکاری عہدیدار ہوں اور نہ ہی ان کی کوئی سیاسی وابستگی ہو۔علاوہ ازیں نان ووٹنگ اراکین میں چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری خزانہ(جو کمیشن کے سیکریٹری بھی ہوں گے)، بورڈ آف ریونیو سندھ

کے سینئر رکن، آڈیٹر جنرل پاکستان کے دفتر میں تعینات سندھ کے سب سے سینئر افسر، اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان کے دفتر میں تعینات سندھ کے سب سے سینئر افسر اور گورنر اسٹیٹ بینک کا نامزد کردہ نمائندہ شامل ہو گا۔سپریم کورٹ کے مطابق چیئرمین اور دیگر ووٹنگ اراکین کے

عہدے کی مدت کمیشن کے پہلے اجلاس سے لے کر 4سال تک ہوگی تاہم عدالت عظمیٰ کسی بھی رکن کو کسی بھی وقت تبدیل کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔اس کے علاوہ عملدرآمد بینچ کی اجازت سے کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کسی بھی وقت استعفیٰ دے سکتے ہیں، اگر گورنر یا

وزیراعلیٰ سندھ مقررہ وقت میں اپنے نمائندوں کو نامزد کرنے میں ناکام یا انکار کردیتے ہیں تو عملدرآمد بینچ کو تعیناتی کا اختیار ہوگا۔حکم نامے کے مطابق کمیشن کے تمام فیصلے ووٹنگ اکثریت سے کیے جائیں گے اور ووٹنگ مساوی ہونے کی صورت میں چیئرمین کو دوسرا ووٹ

دینے کا اختیار ہوگا۔اس کے علاوہ کمیشن کے چیئرمین جس اجلاس میں نان ووٹنگ اراکین کو مدعو کرنے وہ اس میں حاضری کے پابند ہوں گے۔حکم نامے میں کہا گیا کہ کمیشن کے کام کے اخراجات، لاگت وغیرہ سندھ حکومت ادا کرے گی اور اگر اس حوالے سے کوئی اختلاف پایا

گیا تو اسے عملدرآمد بینچ حل کرے گا۔عدالت نے کمیشن کا پہلا اجلاس بلانے کیلئے 25 جنوری 2021 کی حتمی تاریخ مقرر کی جو عملدرآمد بینچ سے منظوری کے بعد کمیشن منصوبوں کے عملدرآمد سے متعلق کارروائی اور ٹھیکے دینے کے عمل کا آغاز کردیگا۔کمیشن کے شروع

کیے گئے اور کیے جانے والے تمام منصوبے باقاعدگی سے آڈٹ ہوں گے اور آڈٹ رپورٹ عملدرآمد بینچ کے سامنے پیش کی جائے گی۔اسی طرح جب کوئی منصوبہ مکمل ہوجائے تو اسے جاری رکھنے اور فعال کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے حوالے کردیا جائے گا۔

حکم نامے کے مطابق چیئرمین کوعملدرآمد بینچ کی سفارشات پر چیف جسٹس پاکستان منتخب کریں گے اور منصوبوں کے انتخاب، ان کی لاگت اور مالی معاملات سے متعلق کمیشن کے فیصلے عملدرآمد بینچ کی منظوری پر منحصر ہوں گے۔حکم نامے کے مطابق کمیشن آئندہ آنے والے کئی سالوں تک فعال رہے گا اور اسے اس کے دائرہ کار، مینڈیٹ اور فنڈز کے لیے دئیے گئے رہنما خطوط کے مطابق قائم کیا جائے گا اور اس کے مطابق کام کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…