پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

کرمپورذیشان کیس کامعمہ حل ہوگیا، باپ اپنی ہی سگی بیٹی سے منہ کالا کرتا رہا، پس پردہ تہلکہ خیزانکشافات

datetime 18  اکتوبر‬‮  2020 |

وہاڑی(آن لائن )کرمپورذیشان مارے جانے کے کیس کامعمہ حل ہوگیا، پس پردہ تہلکہ خیزانکشافات۔ذیشان کو مارنے والا اشفاق اپنی سگی شادی شدہ بیٹی(ز)کی مسلسل عزت لوٹتا رہا۔بیٹی نے مقتول رشتہ دارذیشان کی مشاورت سے اس شرمناک منظرکی ویڈیو بنالی ویڈیو کا پتاچلنے پراشفاق نے ذیشان کومار کر نعش راجباہ میں پھینک دی پولیس تھانہ کرمپورنے ملزم کے

خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا۔تفصیلات کے مطابق تین روزقبل احمدپورمائنرسے18سالہ نوجوان ذیشان علی کی رسیوں سے بندھی ہوئی نعش برآمدہوئی تھی اس کو مارنے والا قریبی رشتہ دار اشفاق نکلا، اشفاق کی حقیقی شادی شدہ بیٹی سے منہ کالاکرنے کی شرمناک ویڈیو سامنے آنے کے بعد اہل علاقہ کے سرشرم سے جھک گئے ہیں۔اشفاق اپنی سگی بیٹی(ز)کو کافی عرصہ سے مسلسل اس سلوک کا نشانہ بناتاچلاآ رہا تھا مظلوم بیٹی جوکہ2بچوں کی ماں ہے اس نے اپنے باپ کے ظلم بارے میں اپنے قریبی رشتہ دارمقتول ذیشان علی کوبتایاکہ اس کا سگا باپ ڈرا دھمکا کر ہوس کا نشانہ بناتا ہے وہ اس گھناؤنے فعل سے تنگ آچکی ہے جس پرذیشان علی نے اپناموبائل دیاکہ وہ اس گھناؤنے کام کی ویڈیو بنائے(ز)نے ایسا کردیا جس کا پتہ اشفاق کوچلا تواس نے ذیشان کو مارنے کا منصوبہ بنایا، واردات والے دن اشفاق مقتول ذیشان کوسلنڈر میں گیس بھروانے کے بہانے گھرسے بلاکرلے گیااوراپنے گھرکے کمرہ میں لے جاکر سرمیں ڈنڈہ کا وار کیا جس پرذیشان بیہوش ہوگیا توملزم نے اس کورسی سے باندھ کرگردن کاٹ دی پھرجرم چھپانے کیلئے نعش رکشہ پرلوڈ کرکے احمد پور مائنر میں جا کر پھینک دی۔ پولیس تھانہ کرمپور تازہ ترین لرزہ خیزانکشافات کے بعد اشفاق کی بیٹی(ز) کا طبی معائنہ کرایا اور اس کے بیانات پراشفاق کے خلاف دفعہ302 اور عزت لوٹنے کا مقدمہ بھی درج کرلیاہے تاہم ملزم تاحال مفرور ہے

دریں اثناء مقتول ذیشان علی کے ورثاء نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اور مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جارہا اگر یہی رویہ پولیس کا رہا تو ڈی پی او آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔دوسری جانب پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…