منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کووڈ ویکسین کی دستیابی 2021 کی آخری سہ ماہی سے قبل ممکن نہیں، کینیڈا میں ہونیوالی طبی تحقیق میں انکشاف

datetime 7  اکتوبر‬‮  2020 |

ٹورنٹو(این این آئی)طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ایک موثر ویکسین کی عام افراد کے لیے دستیابی 2021 کی چوتھی سہ ماہی تک ممکن نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں ویکسین کی تیاری کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین سے رائے لی گئی۔

میک گل یونیورسٹی کی اس سروے نما تحقیق میں ویکسینولوجی کے شعبے کے 28 ماہرین سے رائے لی گئی۔اس تحقیق کا آغاز جون کے آخر میں ہوا تھا اور اس میں شامل بیشتر ماہرین کا تعلق کینیڈا یا امریکا سے تھا جو اپنے شعبے میں اوسطا 25 سال سے سرگرم تھے۔محقق جوناتھن کمیلمین نے بتایا کہ کہ ہمارے سروے میں شامل ماہرین نے ویکسین کی دستیابی کے حوالے سے اپنی پیشگوئیوں میں اس بات کا بہت کم امکان ظاہر کیا کہ کوئی کورونا ویکسین 2021 کے آغاز میں لوگوں کے لیے دستیاب ہوسکتی ہے۔درحقیقت بیشتر کا تو ماننا تھا کہ اگر اگلے سال موسم گرما تک بھی ویکسین کی دستیابی بہترین منظرنامے کا حصہ ہوگی۔متعدد ماہرین کا ماننا تھا کہ کسی موثر ویکسین کی دستیابی سے قبل کسی قسم کے خراب آغاز کا سامنا ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق ماہرین کا ماننا تھا کہ اس بات کا ایک تہائی امکان ہے کہ منظوری کے بعد ویکسین کے حوالے حفاظتی وارننگ جاری ہوسکتی ہے، جبکہ 40 فیصد امکان اس بات کا بھی ہے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی پہلی تحقیق میں افادیت کو رپورٹ ہی نہ کیا جائے۔ماہرین سے مختلف سوالات کے ذریعے ویکسین کی تیاری پر پیشگوئی کا کہا گیا تھا، خاص طور پر انہیں کہا گیا کہ ان کی نظر میں بہترین منظرنامہ کیا ہوگا، جلد از جلد کب تک ویکسین دستیاب ہوسکتی ہے اور کتنی تاخیر ہوسکتی ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے ردعمل سے لوگوں کو مختلف ماہرین کی آرا سے ویکسین کی دستیابی کی مکمل تصویر کو دیکھنے کا موقع مل سکے گا۔محققین کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیق نے دریافت کیا کہ ماہرین کورونا وائرس ویکسین کی دستیابی کے دورانیے کے حوالے سے متفق ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماہرین کی رائے حکومتوں کے خوش آئند تخمینوں سے مماثلت نہیں رکھتے، مگر یہ اس خیال کی عکاسی کرتے ہیں کہ محققین بہت ماضی کی ویکسینز کے مقابلے میں اس بار بہت تیزی سے اپنا کام مکمل کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…