پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اپوزیشن کو فوج سے اس لئے مسئلہ ہے کہ وہ ان کا یہ کام پکڑ لیتی ہے، وزیراعظم نے ترجمانوں اور پارٹی رہنماؤں کو اپوزیشن بارے اہم ٹاسک سونپ دیا،اپوزیشن کی تحریک بارے بھی اہم فیصلہ

datetime 2  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری حکومت کے ساتھ ہے اور اپوزیشن کی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارٹی قیادت اور ترجمانوں کا اجلاس ختم ہوگیا۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر حکومتی حکمت عملی طے کی گئی اور اپوزیشن کی اعلان کردہ حکومت مخالف تحریک

پر بھی مشاورت ہوئی جب کہ اپوزیشن کے احتجاج اور جلسوں کی جوابی حکمت عملی پر غور ہوا۔شرکا کو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جب کہ حکومتی ترجمانوں کو پاور سیکٹر میں اصلاحات پر بھی بریفنگ دی گئی، وزیراعظم عمران خان نے حکومتی موقف پر ترجمانوں کو اہم ہدایات دیں۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قوم اداروں کے ساتھ کھڑی ہے، سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں، فوج آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوری حکومت کے ساتھ ہے، اپوزیشن کی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں، اپوزیشن کو فوج سے اس لئے مسئلہ ہے کہ وہ ان کی کرپشن پکڑ لیتے ہیں۔وزیراعظم نے ترجمان اور پارٹی رہنما اپوزیشن کو ایکسپوز کرنے اور وفاقی وزرا کو متحرک ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم متحد ہو کر بھارتی سازش کو ناکام بنائے گی، فوج کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں، حکومت اپنے اداروں کا دفاع کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ بی جے پی حکومت پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے، نواز شریف اور بھارت پاکستانی اداروں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، نواز شریف کے بیانات بھارتی ایجنڈے کے مطابق ہیں، نواز شریف اپنے بچوں کو لندن میں بٹھا کر عوام کو سڑکوں پر لانا چاہتے ہیں، قوم دیکھ رہی ہے نواز شریف کے بیانات پر پاکستان مخالف لوگ بغلیں بجا رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا

کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں عوامی نہیں زاتی ایجنڈا پر ہیں، اپوزیشن کو این آر او نہیں دیا جائے گا، اپوزیشن کو مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ڈیل نہیں مل رہی جب کہ نوازشریف کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف آج کیوں باتیں یاد آرہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…