بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

10 سال بعد کویت کے دروازے پاکستانیوں کیلئے کھل گئے، ایک لاکھ پاکستانیوں کو کویت بھیجنے کی تیاریاں

datetime 27  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ این این آئی) وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کے حکام کا کہنا ہے کویت حکومت سے رابطہ کر کے باضابطہ درخواست کی گئی ہے جس پر مثبت ردعمل متوقع ہے۔پاکستان نے تقریبا ً ایک لاکھ ہنرمند افرادی قوت کویت بھیجنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جس کا مقصد اپنی ترسیلات زر کو بڑھانا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملک سے ہنر مند

افرادی قوت کی بر آمد کے لئے کویت کی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کر رکھے ہیں جس سے ان کوششوں کو مزید تقویت حاصل ہو گی۔یاد رہے کہ معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز سید ذوالفقار بخاری نے حال ہی میں ابو ظہبی ڈائیلاگ کے پانچویں سیشن کے دوران کویت کے وزیر محنت سے علیحدہ ملاقات بھی کی تھی۔یاد رہے کہ ایک انٹرویو کے دوران معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہاتھا کہ کویت کے ساتھ لیبر معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ایک انٹرویومیں زلفی بخاری نے کہا تھا کہ گزشتہ 10 سال سے کوئی پاکستانی بطور لیبر کویت نہیں گیا، اب کویت کے ساتھ بھی لیبر سے متعلق معاہدے ہو رہے ہیں، لیبر کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ بھی پاکستان کے معاہدے ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جو لوگ یو اے ای سے واپس آئے ہیں، انھیں بھی اب آہستہ آہستہ یو اے ای واپس بلا لیا جائے گا، یو اے ای حکام کی کوشش ہے کہ لوگوں کو آہستہ آہستہ واپس بلایا جائے، اس سلسلے میں کرونا میں کمی کے بعد یو اے ای حکام نے سب سے پہلے مجھے طلب کیا۔زلفی بخاری نے کہا تھا کہ کرونا وبا کے دوران بیرون ملک سے 4 لاکھ پاکستانی واپس آئے ہیں، ان میں سے 2 لاکھ تو طلبہ تھے، 50 ہزار بیرون ملک سے ایسے پاکستانی آئے جن کو چھٹیاں دی گئیں، اب کوشش ہے کہ جن پاکستانیوں کو چھٹیاں دی گئیں انھیں واپس بلایا جائے۔معاون خصوصی نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے

لیے بھی معاہدے کیے جا رہے ہیں، سرمایہ کاری میں درپیش مسائل ختم کیے جا رہے ہیں، ایف بی آر کی جانب سے جو مسائل تھے انھیں بھی دور کیا جا رہا ہے۔ زلفی بخاری نے کہا کہ گزشتہ 10 سال سے کوئی پاکستانی بطور لیبر کویت نہیں گیا، اب کویت کے ساتھ بھی لیبر سے متعلق معاہدے ہو رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…