پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس، 75 سالوں میں پہلی بار حیرت انگیز کام ہو گیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2020 |

نیویارک (آن لائن) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر کے آخری ہفتے میں عالمی شخصیات کی آمد اور خطاب سے شروع ہوتا ہے۔عالمی رہنماؤں کی آمد سے قبل رکن ممالک کے وفود کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جن کے لئے ہوٹلز اعلی جدید ترین لیموزین گاڑیوں کے قافلے اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا جاتا ہے ان دنوں نیویارک اور گردونواح کے ہوٹلوں میں مکمل طور

پر بک ہوجاتے ہیں ٹیکسی والوں کا کاروبار عروج پر پہنچ جاتا ہے نائٹ کلبوں اور مے خانوں کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں ہے پولیس اور سیکرٹ سروس کے دستے تمام اہم مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیتے ہیں صدر امریکہ کی نیویارک آمد اور اقوام متحدہ سے خطاب کے وقت نیویارک ہائی الرٹ پر رہتا ہے ٹریفک جام کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔مگر اس سال گذشتہ 75 سالوں کے برعکس پہلی مرتبہ کوئی بیرونی وفد نیویارک نہیں پہنچا تمام کاروائی ریموٹ ہورہی ہے نیویارک میں تعینات یو این میں متعلقہ ممالک کے نمائندے اس اجلاس میں نمائندگی کے لئے حصہ لیتے ہیں۔نیویارک کی سٹی انتظامیہ کو اس سال ریونیو کی مد میں ایک ارب ڈالرز سے زائد کی محرومی کا سامنا ہے ٹیکسیاں سڑکوں سے غائب ہیں ہوٹل بھوت بنگلے بنے ہوئے ہیں ائیرپورٹس طیاروں اور مسافروں کی شکلیں دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔ایک وقت تھا۔عرب حکمرانوں کے طیارے عالی شان لیموزین گاڑیوں سے لدے ان ائیر پورٹوں پر لینڈ کرتے تھے اور کرنل قذافی تو اپنی خیمہ بستی جو عرب ثقافت کا آئینہ دار ہوتی تھی بسا لیتے تھے مگر نہ تو قذافی رہے نہ یاسر عرفات، پاکستان کے عمران خان کے اقوام متحدہ سے خطاب ذوالفقار علی بھٹو کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے کشمیر پر پاکستان کے دبنگ موقف کو دنیا بھر میں اجاگر کیا اور اسکی قیمت پاکستان نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی شکل میں ادا کی اب عمران خان کے فلسطین

پر دلیرانہ موقف نے انہیں بھٹو جیسا عالمی لیڈر بنا دیا ہے اگر کورونا نہ ہوتا تو عالمی فورم پر عمران خان کی جو پذیرائی ہوتی وہ دنیا دیکھتی کہ پاکستان اب ایک بار پھر اسلامی اور تیسری دنیا کا حقیقی لیڈر بن کر قیادت کا مستحق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…