پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

ٹی وی ڈراموں کی وجہ سے جرائم میں اضافہ، شوبز شخصیات نے وزیر ریلوے کو کھری کھری سنا دیں

datetime 20  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی ) شوبز شخصیات نے ٹی وی ڈراموںکی وجہ سے جرائم بڑھنے کے وزیر ریلوے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جرائم پر سزا نہ ملے تو اس میں ٹی وی ڈراموں کا کیا قصور ہے ۔ سینئر رائٹرو اداکارانورمقصودنے کہا کہ ڈرامے اس کے ذمہ دار نہیں

لیکن بہتری کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور شعور کی کمی کو جرائم میں اضافے کی وجہ قرار دیا ۔جرائم میں اضافے کا تعلق ڈراموں سے نہیں، اگر تعلیم یافتہ لوگ ڈرامے دیکھیں تو وہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ڈرامہ کیا ہے، پھر بھی ہمارے ڈرامے کو بہتر ہونا پڑے گا وقت کو تو بدلنا ہے اب یہ ایک حد ہوگئی ہے۔اداکارہ حنا خواجہ یبات نے سوال اٹھا یا الزام لگانے والے بتائیں قانون کا نفاذ اور مجرم کو سزا دینا کس کا کام ہے؟یہ کہنا کہ ٹی وی ڈراموں کی وجہ سے جرم بڑھ رہے ہیں یا گناہ ہورہے ہیں یہ بے وقوفی کی بات ہے، آج اگر جرائم بڑھ رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ قوانین بن تو جاتے ہیں مگر ان کا نفاذ نہیں ہوتا، ڈرامہ تو مثالیں قائم کر رہا ہے تربیت کا فقدان ہے قوانین کا نفاذ ہمارا کام نہیں ہے۔فیصل قریشی کا کہنا تھاکہ ڈرامے تو صحیح اور غلط کا فرق بتاتے ہیں، ڈراموں میں جو دکھایا جاتا ہے وہ وہ ہوتا ہے جو ہوچکا ہوتا ہے،خدارا الزامات کا یہ سلسلہ بند کرکے وہ کام کیا جائے جو کرنا چاہیے ۔ماڈل سنیتا مارشل کا کہنا تھا تربیت کا فقدان ایسے رویوں کو جنم دے رہا ہے، صرف اس طرح کے عنوانات کے ڈراموں کو بند کرنا میرا نہیں خیال کہ کوئی حل ہے، میں اس پر یقین نہیں رکھتی، ایسے ڈراموں کے اوقات تبدیل کردیں اور اس طرح کا مواد چلنے سے پہلے ضرور پی جی کا سائن لگائیں ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…