پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

اسرائیل کی خلیجی ریاستوں کے معاہدوں کی آڑ میں مسجداقصی کی تقسیم کی سازش ، قانونی ماہرین کا دعویٰ

datetime 15  ستمبر‬‮  2020 |

مقبوضہ بیت المقدس( آن لائن) قانونی ماہرین نے کہاہے کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے خلیجی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں سے مسجد اقصی کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔خلیجی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیریسٹریئل یروشلم(ٹی جی)نامی این جی او کی ایک خصوصی رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے

سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں میں استعمال کی گئی زبان سے مسجد اقصی کے احاطے پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ختم ہونے کی راہ نکلتی ہے۔1967 میں 35 ایکڑ پر محیط الحرم الشریف یا الاقصی مسجد کے احاطے سے متعلق اسرائیل نے بھی یہ تسلیم کیا تھا کہ یہاں غیر مسلموں کو آنے کی اجازت تو ہوگی تاہم وہ عبادت نہیں کرسکیں گے۔2015 میں نتن یاہو نے بھی اسی حیثیت کو تسلیم کرنے کا از سر نو اعلان کیا تھا۔تاہم رپورٹ کے مطابق 13 اگست کو امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے جاری کردی مشترکہ اعلامیے میں یہ شق شامل ہے کہ امن کے وڑن کے تسلسل کے لیے پرامن مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے عبادت گزاروں کو الاقصی مسجد اور یروشلم کے دیگر مقدس مقامات میں داخلے کی اجازت ہونی چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل احاطے میں مسجد کی عمارت کے علاوہ دیگر ڈھانچوں کو مقدس عمارتیں قرار دیتا ہے اور یہاں یہودیوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے داخلے اور عبادت کی اجازت دینے کی بات کررہا ہے۔اس حوالے سے فلسطینی وکیل خالد زبرقا نے کہا کہ معاہدے میں یہ شق تسلیم کرکے دراصل متحدہ عرب امارات مسجد اقصی پر مسلمانوں کے مکمل اختیار سے دست بردار ہوگیا ہے اور اس پر اسرائیل کا اختیار تسلیم کرچکا ہے۔خالد زبرقا کا کہنا تھا کہ معاہدے کی یہ شق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور 1967 میں مسجد اقصی کی تسلیم شدہ حیثیت

کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ 1967 میں یہ تسلیم کیا جاچکا ہے کہ اس احاطے پر صرف مسلمانوں کا حق ہے۔ماہرین کا کہنا تھا کہ امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدے میں شامل اس شق کے الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور مستقبل میں اس سے مسجد الاقصی کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی کا راستہ ہموار ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…