منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

لعاب دہن ٹیسٹ کورونا وائرس کی تشخیص کا موثر ذریعہ قرار  امریکا میں ہونیوالی طبی تحقیق میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 7  ستمبر‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)نوول کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے لعاب دہن کا ٹیسٹ نسل سواب ٹیسٹ جتناموثر ثابت ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی،یالے یونیورسٹی نے لعاب دہن کا ٹیسٹ اپریل میں متعارف کرایا تھا اور اب اس کی افادیت کے

حوالے سے تحقیق سامنے آئی ۔ تحقیق کے دوران 70 مریضوں پر اس ٹیسٹ کی آزمائش کی گئی جن میں پہلے ہی کووڈ 19 کی تشخیص نسل سواب ٹیسٹ سے ہوچکی تھی۔واضح رہے کہ نسل سواب ٹیسٹ میں ایک سلائی ناک کے اندر کافی گہرائی میں جاکر نمونے لیے جاتے ہیں، جو اکثر افراد کے لیے کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔پہلی تشخیص کے ایک سے 5 دن بعد لعاب دہن کے 81 فیصد نمونے مثبت رہے جبکہ نسل سواب ٹیسٹ میں یہ شرح 71 فیصد رہی۔یہ تحقیق اپریل میں یالے یونیورسٹی کی ابتدائی تحقیق کا حصہ ہے جو اس وقت کسی طبی جریدے کی بجائے آن لائن شائع ہوئی تھی۔اس وقت محققین کا کہنا تھا کہ لعاب دہن سے بھی سارس کوو 2 کی تشخیص ممکن ہے اور اس کے ٹیسٹ محفوظ ہونے کے ساتھ زیادہ آسانی سے دستیاب بھی ہوں گے۔محققین کا کہنا تھا کہ لعاب دہن کے نمونوں کو بڑے پیمانے پر گھروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔نسل سواب پر انحصار کرنے میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹیسٹ کو کرنے والے طبی عملہ بھی وائرس سے متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ نمونے لینے کے عمل کے دوران مریض میں کھانسی یا چھینک آسکتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ لعاب دہن کورونا وائرس کے ٹیسٹس کے لیے آسان حل ہے کیونکہ اس کے نمونے آسانی سے حاصل ہوسکتے ہیں جس سے طبی عملے کے لیے بھی خطرہ کم ہوتا ہے۔نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ لعاب دہن کے ٹیسٹ بڑے پیمانے پر ٹیسٹوں کے لیے نسل سواب ٹیسٹ کا اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔درحقیقت انہوں نے دیکھا کہ کووڈ 19 کے کچھ مریضوں میں نسل سواب کے نمونوں میں وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی مگر ان مریضوں کے تھوک کے نمونوں میں اسے پکڑ لای گیا۔طبی عملے کے ایسے افراد میں بھی وائرس کی تشخیص لعاب دہن کے نمونوں سے کی گئی جو بظاہر صحت مند نظر آرہے تھے اور روایتی ٹیسٹ کے نتائج بھی نیگیٹو رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…