ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

سشانت کونسی خطرناک بیماری کا شکار تھے؟  ڈاکٹرزکا اہم انکشاف

datetime 5  ستمبر‬‮  2020 |

ممبئی (این این آئی)سشانت سنگھ راجپوت خودکشی کیس میں اب سی بی آئی کے علاوہ ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سشانت سنگھ راجپوت کے ڈاکٹرز نے ممبئی پولیس سے پوچھ گچھ کے دوران یہ انکشاف کیا کہ سشانت بائپولر ڈس آرڈر نامی بیماری میں مبتلا تھے۔انہوں نے بتایا کہ

سشانت گزشتہ تیرہ سالوں سے اٹینشن ڈیفیسیٹ ہائیپر ایکٹویٹی ڈس آرڈر (ADHD) نامی بیماری میں بھی مبتلا تھے۔سشانت کے ڈاکٹروں کے مطابق سشانت کا علاج چل رہا تھا اور وہ مختلف دوائیں بھی لے رہے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سشانت کی بہن نے بھی ممبئی پولیس کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سال 2013 میں سشانت کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی۔گزشتہ دنوں سشانت کی سابق مینیجر شرتی مودی کے وکیل نے کہا تھا کہ سشانت کے اہل خانہ جانتے تھے کہ وہ عادتا ڈرگس لیتے ہیں۔شرتی مودی کے وکیل نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ گھر پر جو بھی پارٹیاں ہوتی تھیں، اس میں سشانت کی بہن بھی شامل ہوتی تھیں، ان کی ایک بہن ممبئی میں ہی رہتی ہیں۔وکیل نے پارٹی میں شامل ہونے والی سشانت کی بہن کا نام نہیں بتایا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ ریا چکرورتی کے ساتھ ریلیشن میں آنے سے پہلے سے ہی سشانت ڈرگس لے رہے تھے۔بائپولر ڈس آرڈر ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض کا ذہن مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ بائپولر ڈس آرڈر میں مریض کبھی بہت زیادہ خوش ہوجاتا ہے تو کبھی بہت زیادہ دکھی ہوجاتا ہے۔ اس بیماری کے بڑھ جانے پر مریض خودکشی کرنے کی بھی کوشش کرسکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ بائپولر ڈس آرڈر ڈپریشن کا ہائی لیول ہے، یہ ایک طرح کی ذہنی بیماری ہے۔ بائپولر ڈس آرڈر ہونے سے پہلے مریض ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے۔ڈپریشن کا علاج نہ ہو پانے کی وجہ سے مریض بائپولر ڈس آرڈر کا شکار ہونے لگتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…