ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

ڈاکٹر ماہا علی کیس ، عرفان قریشی کا کیا کردار ہے ؟ میری بیٹی کواس کے  گھر تک پہنچانے کے پیچھے جنید کے کیا مقاصدتھے؟ تہلکہ خیز انکشافات 

datetime 31  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈاکٹر ماہا علی کیس میں نیا موڑ آگیا، والد آصف نےتہلکہ انگیز انکشافات کر دیئے ۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ڈاکٹر ماہا کی زندگی کے خاتمے سے متعلق ان کے والد آصف نے کہا ہے جنید میری بیٹی کو دھمکیاں دیتا اور زدو کوب کرتا تھا ، شادی کی خبریں من گھڑت تھیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مجھے میری چھوٹی بیٹی نے ڈاکٹر ماہا کی موت کے بعد

معاملات سے آگا ہ کیا ۔ جنید کی چھوٹی بہن مہوش کی میری بیٹی ماہا کیساتھ دوستی تھی جس نے جنید کیساتھ ملاقات کروائی ۔ جنیدمیری بیٹی ماہا کو اپنے ایک قریبی دوست عرفان قریشی کے گھر لے کر گیا ، وہاںپر اسے نشے کی لت لگائی گئی ۔ وہاں پر ان کا ایک گروہ لڑکیوں کو ورغلاتا ہے اور انہیں نشے کی عادت میں مبتلا کرتا ہے ۔ دوسری جانب ڈاکٹر ماہا کے دوست جنید کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ماہا کے والد آصف سے پوچھا جائے کہ ان کی بیٹی کے پاس قیمتی آئی فون کہاں سے آیا۔ جب فون اس کے پاس آیا تو ماہا کی جاب بھی نہیں تھی۔جنید نے کہا کہ ماہا کی جاب چار ماہ پہلے سے شروع ہوئی تھی۔ جنید نے اہم سوال اٹھایا کہ جو شخص کسی کو مارتا ہے یا برا سلوک کرتا ہے تو اس سے ایک دن پہلے تک کوئی بات نہیں کی جاتی۔ ماہا زندگی کا خاتمہ کرنے سے ایک دن قبل مجھ سے بالکل ٹھیک بات کر رہی تھی، ہم دونوں کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔ جنید نے انکشاف کیا کہ ماہا نے کبھی تابش نامی نوجوان کا ذکر نہیں کیا۔ ان دونوں کے تعلق کے بارے میں مجھے ماہا کے بھائی نے بتایا۔ جنید نے کہا کہ ماہا کا کہنا تھا کہ میری والد سے پراپرٹی کے معاملے پر لڑائی چل رہی ہے۔ جنید کا کہناہے کہ ماہا کے بھائی نے اسے اس واقعہ کے بارے میں بتایا جیسے ہی مجھے پتہ چلا میں فوراً ہسپتال پہنچ گیا، میں پوری رات ان کے ساتھ رہا۔ جنید نے بتایا کہ میں نے ڈاکٹر ماہا کے والد کو کہا کہ بلیڈنگ ہو رہی ہے اس لئے چھیپا سے غسل کرا لیتے ہیں، جنید نے کہا کہ ایمبولینس سے لے کر کفن تک سارے اخراجات میں نے اٹھائے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…