منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خشک کمرے اور ایئرکنڈیشنڈ مقامات کورونا وائرس لگنے کے خطرات  کو انتہائی زیادہ کر دیتے ہیں،نئی تحقیق میں خوفناک انکشافات

datetime 22  اگست‬‮  2020 |

برلن(این این آئی )ایک نئی تحقیق میں کہاگیا ہے کہ خشک کمرے اور ایئرکنڈیشنڈ مقامات کورونا وائرس لگنے کے خطرات کو انتہائی زیادہ کر دیتے ہیں۔ عمارات، کمروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نمی کی مقدار مناسب رکھنا انتہائی ضروری ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ نتائج جرمن اور  بھارتی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے حال ہی میں ہونے والے دس بین الاقوامی مطالعات کا جائزہ لیتے ہوئے

جاری کیے ۔جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اندرونی ماحول میں ہوا کے ذریعے کووڈ انیس کے پھیلا میں نمی کا کردار انتہائی اہم معلوم ہوتا ہے۔ آب و ہوا سے متعلق جرمن ادارے لائبنیس انسٹی ٹیوٹ (ٹروپوس)سے تعلق رکھنے والے محقق الفریڈ ویڈنسوہلر اور بھارت کی سی ایس آر آئی نیشنل فیزیکل لیبارٹری سے منسلک سمیت کمار کا کہنا تھا کہ کمروں کے اندر نمی کی کم سے کم مقدار چالیس فیصد اور زیادہ سے زیادہ ساٹھ فیصد ہونی چاہیے۔رپورٹ میں تجویز کیا گیا کہ کمرے میں مناسب نمی رکھنے کے لیے کھڑکیوں کو کھلا رکھیں۔ اس طرح نہ صرف نمی مناسب مقدار میں موجود رہتی ہے بلکہ ناک کے ذریعے وائرس کے جذب ہونے کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔اگر ہوا زیادہ خشک ہو گی تو ناک کی جھلی خشک ہو جاتی ہے، جس پر وائرس آسانی سے حملہ آور ہو سکتا ہے۔ ان محققین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ موسم سرما میں اس وائرس کے پھیلا کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔ لاکھوں انسان ہیٹر والے کمروں میں رہیں گے۔ ایسے کمروں میں ہوا عمومی طور پر ایئر کنڈیشنگ سسٹم کے ذریعے داخل ہوتی ہے اور ایسے سسٹم وائرس کے پھیلا کے خطرے کو بڑھا دیتے ہیں۔اسی طرح سنگاپور اور ملائیشیا میں ہونے والے مطالعات میں ان افراد کو کورونا وائرس سے خبردار کیا گیا ہے، جو گرم علاقوں میں رہتے ہیں اور شدید کولنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ ماسک کی پابندی کے ساتھ ساتھ اس تحقیق میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سماجی فاصلے اور ایک کمرے میں کم سے کم لوگوں کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…