منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے کورونا ویکسین متعارف کرانے کے حوالے سے معیار طے کرلیا

datetime 17  اگست‬‮  2020 |

بیجنگ (این این آئی )چین نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی منظوری اسی صورت میں دی جائے گی جب ان کی افادیت کی شرح کم از کم 50 فیصد اور کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت 6 ماہ تک برقرار رکھ سکے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین کے سینٹر فار ڈرگ ایولوشن (سی سی ڈی ای)کا تجویز کردہ مسودہ سامنے آیا

جس میں کورونا ویکسین کے حوالے سے ضوابط دیئے گئے ۔اگرچہ اس میں ویکسین کی کم از کم افادیت 50 فیصد قرار دی گئی ہے مگر ویکسینز کے لیے جو ہدف مقرر کیا گیا ہے وہ 70 فیصد آبادی کے لیے موثر ہونا ہے۔مسودے کے مطابق ویکسینز کے ہنگامی استعمال کے لیے کم از کم افادیت کی شرح رکھی گئی ہے اور ان میں ایسی ویکسین بھی شامل ہوگی جس کا کلینیکل ٹرائل مکمل نہ ہوا ہو مگر افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کے استعمال کی منظوری دے دی جائے گی۔ویکسینز کے آخری ٹرائلز کو مکمل ہونے میں ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے مگر مقامی رہنما کسی بھی کامیاب ویکسین کو جلدازجلد متعارف کرانے کے خواہشمند ہیں۔ویکسین کی افادیت کے حوالے سے چینی گائیڈلائنز میں عالمی ادارہ صحت اور یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی ہدایات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔سی سی ڈی ای کے مطابق اس نے معیار کا تعین عالمی ادارہ صحت کی ہدایات اور 50 سے زائد ماہرین اور 37 سائنسی ٹیموں سے مشاورت کے بعد کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ویکسین اتنی تعداد میں موصول ہوگی جو آبادی کے تقریبا پانچویں حصے 20 فیصدکے لیے کافی ہوگی۔ویکسین کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر حاصل ہونے والی ویکسین پاکستان میں غریب علاقوں سمیت بزرگوں، طبی عملے اور کووڈ19 سے متاثرہ تشویش ناک حالت میں موجود مریضوں میں استعمال کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…