پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

بھارت رافیل طیارے پاکستان بھیجنے کی غلطی نہ کرے ورنہ ’’طیارے زمیں پر، پارٹ ٹو‘‘بنا دی جائے گی،بھارت کووارننگ

datetime 14  اگست‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ ہمارے آبا ئو اجداد اپنی جاگیریں، عزتیں، وجاہتیں، باغات سمیت اپنا سب کچھ ہندوستان چھوڑ کر پاکستان اس لئے آئے تاکہ وہ دو قومی نظریے کے مطابق عزت و احترام سے اپنی زندگی گزار سکیں،ایک طرف پاکستان میں اقلیتوں کے لیے کرتار پور راہداری بنائی گئی، مندروں کے لیے خصوصی فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں،

انتظامیہ، عوام، پولیس اور فوج اقلیتوں کی عزت و ناموس کی حفاظت میں مصروف ہیں دوسری جانب انتہا پسند مودی کی انتہا پسند جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کے انڈیا میں بابری مسجد شہید کر کے رام مندر تعمیر کیا جاتا ہے، آج بھارت میں اقلیتوں سمیت چھوٹی ذات کے ہندوں کی بھی عزت محفوظ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے چودہ اگست کے موقع پر چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کے بچوں کے ہمراہ یومِ آزادی منانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس سے حال ہی میں ملنے والے رافیل طیارے پاکستان بھیجنے کی غلطی نہ کرے ورنہ 27 فروری 2019 کی طرز پر ’’طیارے زمیں پر، پارٹ ٹو‘‘ بنا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی افرادی قوت اور زیادہ دفاعی بجٹ پر ناز کرنے سے پہلے بھارت یہ جان لے کہ جنگیں جذبہ حب الوطنی اور جذبہ ایمانی سے جیتی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تہترواں یومِ آزادی قائد اعظم محمد علی جناح کی دیانتدار اور دوراندیش قیادت، مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کی انقلابی سوچ، 1930 میں ’’ نوو اورنیور‘‘کا کتابچہ لکھ کر جوانی میں پاکستان کا نام تجویز کرنے والے چوہدری رحمت علی، اپنی عزت و عصمت بچانے کے لیے خود کو بیاس کی لہروں کے سپرد کرنے والے ایک نوجوان لڑکی، اور پاکستان سے محبت کرنے پر اپنا بچہ قربان کرنے والی ایک بیوہ خاتون کے نام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…