جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

فیضان بس پر کنڈکٹر کی پہلی نوکری کے پہلے دن سیلفی بنانے کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق، جس بس سے واپس گھر جانا تھا اسی سے میت روانہ، انتہائی افسوسناک واقعہ

datetime 12  اگست‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن میں سیلفی بنانے کے دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والا 19 سالہ فیضان بس پر کنڈکٹر کی پہلی نوکری کے پہلے دن پہلی بار کراچی آیا تھا جس نے پیر کی شام قیوم آباد سے اسی بس پر گائوں واپس لوٹ جانا تھا مگر اب اسی بس پر اس کی میت مانسہرہ روانہ کر دی گئی ہے۔متوفی نوعمر لڑکے کے چچا محمد فیاض کے مطابق مانسہرہ کے

علاقے ماڑی مکرب شاہ کے رہائشی ان کے بھائی فدا محمد ٹرانسپورٹر تھے جن کا کچھ عرصہ قبل انتقال ہوگیا۔ مرحوم کے بیٹے 19 سالہ محمد فیضان کو انہوں نے مانسہرہ سے کراچی کے درمیان چلنے والی بس سروس پر کنڈیکٹر رکھوایا تھا۔فیضان بس کے پہلے ہی چکر پر پہلی بار 10 اگست کی رات کراچی پہنچا تھا۔ اس نے بس کے ساتھ 11 اگست کی سہہ پہر 4 بجے واپس مانسہرہ روانہ ہو جانا تھا۔فیاض کے مطابق قیوم آباد سی ایریا میں ان کے گھر کے ساتھ ہی بس کے آخری اسٹاپ پر گاڑی کھڑی کروا کر رات کو فیضان ان کے گھر پر آ کر ٹھہرا تھا۔ صبح ناشتہ کرکے فیضان چھوٹے بچوں کے ساتھ گلی محلے میں گھومنے کے لیے نکلا تھا۔فیاض کے مطابق نوعمر فیضان قیوم آباد سے ملحق ڈیفنس فیز 7 میں زبیر مسجد کے قریب کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن کے ساتھ کھڑا ہو کر موبائل فون سے سیلفی بنا رہا تھا کہ دیوار میں کرنٹ پھیلنے کی وجہ سے چپک کر ہلاک ہو گیا۔پولیس کے مطابق کے الیکٹرک کے سب اسٹیشن کا مرکزی دروازہ موجود نہیں تھا جس بنا پر بچے کھیلتے ہوئے سب اسٹیشن کے اندر چلے گئے تھے جہاں اندر کی دیوار کے ساتھ فیضان کو کرنٹ لگا۔ 22 اگست کو متوفی کی اکلوتی بہن کی شادی طے کی جاچکی ہے۔پولیس کے مطابق ضابطے کی کارروائی کے بعد میت لواحقین کے حوالے کردی گئی ہے۔ فیضان نے جس بس پر کنڈیکٹری کرتے ہوئے اپنے گائوں مانسہرہ واپس جانا تھا اسی بس سے اب اس کی میت روانہ کر دی گئی ہے۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…