بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

آج چاند دیکھ کرسب کو اندازہ ہوگا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اپنے مؤقف پر قائم

datetime 22  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے گزشتہ روز چاند نظر نہ آنے کے اعلان کے بعد بھی وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔گزشتہ روز وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پیش گوئی کی تھی کہ ذی الحج کے

چاند کی پیدائش پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق گزشتہ رات 10 بج کر 33 منٹ پر ہوچکی ہے اور 21 جولائی کو پاکستان اور گرد و نواح کے مطلع میں چاند نظر آجائیگا تاہم ایسا نہیں ہوا اور اس بار وفاقی وزیر کا دعویٰ غلط ثابت ہوگیا۔گزشتہ روز چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے چاند نظر نہ آنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ملک میں یکم ذی الحج 1441 ہجری بروز جمعرات 23 جولائی اور عیدالاضحیٰ یکم اگست بروز ہفتہ ہوگی تاہم فواد چوہدری اپنے مؤقف پر اب بھی قائم ہیں اور کہا کہ ذی الحج کا چاند ہوچکا ہے۔اپنے ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ بدچاند دیکھ کرسب کو اندازہ ہوگا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے، فیصلہ کابینہ اور عوام کو کرنا ہے کہ وہ جدت اپنائیں یا پرانی روایت پسندی پر قائم رہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنی رائے کابینہ کو دے چکا، کسی کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنائیں۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب پرانی ٹیکنالوجی سے چاند دیکھنا حلال ہے تونئی سے حرام کیوں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…