بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

عزیر بلوچ سے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے رابطے تھے سابق سیکٹر کمانڈر سندھ رینجرز کے تہلکہ خیزانکشافات

datetime 10  جولائی  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ رینجرز کےسابق سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر (ر) باسط شجاع نے انکشاف کیا کہ کسی بھی جگہ پر کوئی جرم نہیں ہو سکتا جب تک سیاسی مدد حاصل نہ ہو ۔ پیپلزپارٹی کے لیڈران عزیربلوچ سے رابطے میں تھے۔

وزیراعلیٰ اور فریال تالپور عزیر بلوچ کے گھر عشائیے پر جاتے اور ملاقاتیں کرتے تھے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیئر(ر)باسط شجاع نے کہا کہ ذوالفقار مرزانےلیاری گینگ وارکاساتھ دیاتھا، 2013میں آپریشن میں گینگسٹر ثاقب باکسر مارا گیا تو قادرپٹیل نے اس کے بعد سندھ رینجرز کا محاصرہ کیاتھا، آپریشن میں گینگسٹرمارےگئے اور قادرپٹیل نےلاشیں رکھ کراحتجاج کیا۔انہوں نے بتایا کہ قادرپٹیل اور لیاری کےلوگوں نے شاہراہ کو لاشیں رکھ کربندکردیاتھا، لیاری آپریشن میں بہت سےلوگ بھاگے اور پکڑے گئے،کراچی کےجرائم میں سیاسی گٹھ جوڑکسی سے ڈھکا چھپا نہیں، کراچی میں تمام کالعدم تنظیموں کےلوگ سیاسی تنظیموں سےمنسلک ہوتےتھے۔بریگیڈیئر(ر)باسط شجاع کے مطابق عزیربلوچ نے اعتراف کیا کہ وہ افسران کے تبادلے کراتا تھا عزیربلوچ کو کچھ سیاسی لوگ تحفظ دے رہےتھے اور کچھ سیاسی لوگوں کی مددسے وہ ملک سےباہربھاگ گیا تھا۔ اسے سندھ حکومت کی سرپرستی حاصل تھی ۔انہوں نے کہا کہ جےآئی ٹی رپورٹ 2016میں مکمل ہوگئی تھی جسے 2020تک دبا کر رکھا گیا،2018سےجےآئی ٹی رپورٹ کوپبلک نہیں کیاگیا مگر اب رپورٹ سندھ ہائی کورٹ کےاحکامات کےبعدپبلک ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…