بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

8 بڑی سٹیل ملز کے 192 مالکان و خریداروں کا اربوں روپے ٹیکس چوری کرنے کا انکشاف،ایف بی آر حرکت میں آ گیا

datetime 8  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)بی ایف آر نے آٹھ بڑی سٹیل ملز کے مالکان کی طرف سے ایس آر او 565 کی چھتری تلے سالانہ 50ارب روپے سے زائد کا ٹیکس چوری کرنیوالوں کو خریداروں سمیت نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔ ایف بی آر نے 192 خریداروں کو نئے نوٹسز جاری کیے ہیں۔دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ آئی ایس ایل اور بی بی جے پائیپس نے اٹھایا ہے دیگر کمپنیوں میں عائشہ سٹیل کراچی، اے ایچ این لاہور،

بی بی جے سٹیل لاہور، ایم اے بی اسلام آباد، روبی سٹیل لاہور اور اجمیر سٹیل لاہور شامل ہیں۔ ایف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق کمپنیا ں چھوٹے چھوٹے دکانداروں کو کروڑوں روپے مالی کی فروخت کی رسیدیں تیار کرتے رہے اور ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خریدار اتنا مال خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن ایس آر او 565 کا فائدہ اٹھا کر اربوں روپے کا ٹیکس بچانے کے لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔ ایس آر او 565سے فائدہ اٹھانے والے یہ وہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے پاکستان سٹیل ملز تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی اور چھوٹی صنعتیں بندش کے بالکل قریب ہیں جس کی وجہ سے دس لاکھ لوگوں کے بیروز گار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوچکا ہے۔ مزید برآں ان کمپنی مالکان نے ایس آر او 565 کے ذریعے بچائے گئے ٹیکس کو ہضم کرنے کے لئے اب حکومت میں بیٹھے ہوئے اپنے سرپرستوں کے ذریعے یہ کوشش شروع ردی ہے کہ مذکورہ قانون کی دفعہ4کو ختم کردیا جائے تاکہ ماضی میں ہونیوالی تمام کرپشن محفوظ ہو جائے اور کوئی بھی ادارہ اس حوالے سے پوچھ گچھ نہ کرسکے۔ذرائع کے مطابق ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 26 اور 26اے کے تحت یہ ساری معلومات اکٹھی کی ہیں۔ ایف بی آر اسلام آباد کی طرف سے ایسی تمام کمپنیوں کا آڈٹ کرنے کے احکامات بھی دے دیئے ہیں جو ایس آر او 565 کے تحت مال تیار کرتی رہی ہیں۔اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل نے پاکستان سٹیل پائپ لائن انڈسٹری ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ضروری معلومات بھی حاصل کی ہیں کہ ایس آر او 565 سے فائدہ اٹھانے والوں نے ایک طرف قومی خزانے کو کیسے نقصان پہنچایا اور دوسری طرف چھوٹے صنعت کاروں کو بھی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…