جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

وفاقی وزیر ہوا بازی نے متنازعہ بیان دے کر پی آئی اے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ، سرمایہ دار مافیا کی قومی ائیر لائن کے خلاف گہری سازش ، دنیا بھر میں پی آئی اے کے بڑے بڑے ہوٹلز اور اثاثے ہتھیانے کے لئے سرگرم ہوگئے، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 3  جولائی  2020 |

پشاور(آن لائن)امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر ہوا بازی نے ایک متنازعہ بیان دے کر پی آئی اے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ وزیر ہوابازی نے کریڈٹ لینے اور سابقہ حکومتوں کو نیچا دکھانے کے لئے قومی ادارے اور پائلٹوں کا مستقبل داؤ پر لگادیا۔ جس ادارے نے دنیا کے کئی نامور فضائی اداروں کو کھڑا کیا عقل سے عاری حکمرانوں نے

اس ادارے کو گرادیا۔ یہ سرمایہ دار مافیا کی قومی ائیر لائن کے خلاف گہری سازش ہے جو دنیا بھر میں پی آئی اے کے بڑے بڑے ہوٹلز اور اثاثے ہتھیانے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ پائلٹوں کے لائسنس جعلی تھے تو ان کی تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو کڑی سی کڑی سزا دی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور میں صوبائی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع، نائب امراء مولانا محمد اسماعیل، نورالحق، عنایت اللہ خان (ممبر صوبائی اسمبلی)، مولانا تسلیم اقبال، ڈپٹی سیکرٹری جنرلز مولانا ہدایت اللہ، مولانا حنیف اللہ، شاہ حسین، صہیب الدین کاکاخیل، جے آئی یوتھ کے صوبائی صدر صدیق الرحمٰن پراچہ، الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر خالد وقاص چمکنی اور جماعت اسلامی ضلع پشاور کے امیر عتیق الرحمٰن بھی شریک تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اندرون و بیرون ملک پی آئی اے کی پراپرٹی ہتھیانے اور قومی ائر لائن کو پرائیویٹائز کرنے کے لیے ادارے کو بدنام کیا گیا جس کی وجہ سے یورپی یونین ائر سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کے یورپی ممالک کے لیے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو معطل کردیا۔اس سے یورپی ممالک اور برطانیہ نے بھی پی آئی اے کی پروازوں کو روک دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے طیارے کی تباہی کی حکومتی رپورٹ منظر عام پر آنے سے پوری دنیا میں پی آئی اے کی بدنامی ہوئی اور ادارے کو زبردست مالی نقصان اٹھانا پڑا۔پائلٹس کو مورد الزام ٹھیرانے سے پہلے ان افسروں کو پکڑا جائے جنہوں نے ان جعلی لائسنسزوالے پائلٹوں کے انٹرویوزاور تعیناتیاں کیں#/s#

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…