جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ایک کروڑ نوکریاں دینے کے دعویداروں نے عوام سے روزگار چھیننا شروع کر دیا،پاکستان ٹورازم کارپوریشن بند کرنے پر حکومت پر شدید تنقید

datetime 2  جولائی  2020 |

پشاور(آن لائن)قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپائو نے پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے ملک بھر میں پاکستان ٹورازم ڈولپمنٹ کارپوریشن کے تحت کام کرنے والے موٹلز کوبند اور وہاں پر کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین کوبرطرف کرنے کے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کی دعویداروں نے عوام کو روزگار دینے کی بجائے ان سے روزگار چھیننے کا سلسلہ شروع کردیا۔

وطن کور شیرپائو میں پارٹی کے مختلف وفود کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی کے ملازمین کا اس حوالے سے کیس عدالت میں ہے جس پر عدالت نے Stay orderدیا ہواہے لیکن اس کے باوجودان کو نوکریوں سے نکالنے کا حکومتی فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔انھوں نے پی ٹی ڈی سی کے اربوں روپے مالیت کے موٹلز اوروہاں پر کام کرنے والے ملازمین کو فارغ کرنے کے حوالے خدشہ ظاہر کیا کہ فیصلہ سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت پی ٹی ڈی سی کی اراضی کو اونے پونے داموںاپنے من پسند افراد کے حوالے کرنا چاہتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ حکمرانوں کاکام لوگوں کو روزگارکے مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے نااہل حکمران برسر روزگار لوگوں کو بے روزگار کرکے ان کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ فیصلہ سے موٹلزمیں کا م کرنے والے سینکڑوں افرادکے خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اور وہ معاشی مسائل کی لپیٹ میں آجائیں گے۔سکندر شیرپائو نے کہا کہ ہم پیسکو اورآئیسکو کی نجکاری کی بھی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے کیونکہ یہ وہاں پر کام کرنے والے ملازمین کے مفادات کے منافی اقدام ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور اس قسم کے فیصلوں سے اجتناب کرتے ہوئے عوام کی بہبود ، ریلیف اور روزگارکی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے۔انھوں نے کہا کہ قومی وطن پارٹی حکومتی فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے ملازمین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور حکومت سے پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ ملازمین کی برطرفی اور سرکاری محکموں کی نجکاری کے حوالے فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…