بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم کی رہائش سے صرف 2 کلومیٹر دور مالک مکان نے کرایہ نہ دینے کی پاداش میں میاں بیوی اور دو چھوٹے بچوں کو قید کر لیا، بااثر آدمی کے سامنے پولیس اور انتظامیہ بھی بے بس

datetime 2  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم کی رہائش گاہ بنی گالا سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پرمالک مکان نے کرایہ نہ دینے کی پاداش میں میاں بیوی اور دو کم سن بچوں کو دس دن سے حبس بے جا رکھتے ہوئے قید کرلیا،پولیس اور ضلعی انتظامیہ بھی بااثر آدمی کے سامنے بے بس ہو گئی۔معلومات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کے کیمپ آفس سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر مکان نمبر04مین کورنگ روڈ بنی گالا میں کرایہ دارہشام فرید رہائش پذیر تھے

اور انہیں دو ماہ قبل کرونا کے باعث کمپنی بند ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا گیا تھا،اس دوران انکے مالک مکان محمود بٹ نے کرایہ کا تقاضا کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ بہت جلد کسی ادھار لیکر رقم ادا کردیگا،بصورت دیگر انکے پاس 60ہزار روپے سیکورٹی کی رقم موجود ہے اور بیس ہزار اور دینے ہیں وہ جلد ادا کر دیگا،لیکن بے رحم مالک مکان نے مذکورہ فیملی میاں بیوی اور دو کم سن بچوں کو گھر میں بند کر کے محبوس کر لیا،ایک ہفتہ تک وہ منت سماجت کرتے رہے لیکن نہ سنی گئی تو انہوں نے تھانہ بنی گالا،ون فائیو پر کالز کیں تو پولیس موقع پر گئی لیکن مذکورہ مالک مکان محمود بٹ کافی اثر رسوخ والا نکلا اور انہوں نے کہا کہ مذکورہ فیملی کرایہ دیدے اور یہاں سے چلی جائے،اور پولیس کے جانے کے بعد پھر اندرسے تالے لگا دیے جاتے،چوتھے د ن ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کو اطلاع ملی تو انہوں نے فوری طور پر ٹیم بھیج کر مذکورہ فیملی کو قید سے آزاد کرایا مگر مالک مکان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی گئی،اب جبکہ ایک اپنے گھر میں قیدہشام فرید نے ایک وائس میسج ریکارڈ کرایا اوروہ ٹائیگر فورس سمیت ڈپٹی کمشنر کو بھی بھیجا گیا جس میں کہا گیا وہ دل کے مریض ہیں انکے پاس خوراک ختم ہو چکی ہے،یہاں گیس بھی نہیں باہر سے کسی سے سلنڈر منگوایا تو وہ محمود بٹ نے ضبط کر لیا،وہ بھوکے ہیں کوئی پرسان حال نہیں،انہوں نے التماس کی ہے کہ مقامی پولیس مالک مکان کے اثر رسوخ کے تابع ہے وہ جیسے ہی جاتے ہیں وہ پھر گیٹ کو تالے لگا لیتا ہے اور ہمیں باہر دکان تک بھی جانے کی اجازت نہیں،اس حوالہ سے محمود بٹ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اندر سے کنڈی لگی ہے تالے نہیں لگائے گئے،مذکورہ فیملی گھر میں آزاد ہے،ہشام فرید کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی اداروں نے انکی مدد نہ کی تو وہ اپنے خاندان سمیت بھوک سے مرجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…