منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے 2 ارب 41 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی ری شیڈول ،ورلڈ بینک نے گرین سگنل دے دیا

datetime 21  جون‬‮  2020 |

کراچی(اے این این ) ڈیبٹ سروس معطلی اقدام (ڈی ایس ایس آئی)کے تحت پاکستان 2020 میں 2 ارب 41 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیوں کو دوبارہ ترتیب دے گا۔عالمی بینک نے ری شیڈولنگ پر ملک کے مخصوص ڈیٹا جاری کرتے ہوئے بیان میں کہا کہ اس اقدام سے ملک بحرانوں پر ردعمل کو موثر بنانے کے قابل ہوگا ۔

قرض دہندگان وسائل کو کورونا وائرس بحران کے ردعمل میں معاشرتی، صحت یا معاشی اخراجات میں اضافے کے لیے استعمال کرسکیں گے۔پاکستان انگولا کے بعد اس اقدام کا دوسرا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ہے۔ورلڈ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 2020 میں ملک کو کل 8 ارب 97 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ادا کرنا تھا جس میں کثیرالجہتی 3 ارب 40 کروڑ ڈالر، دو طرفہ 4 ارب 32 کروڑ ڈالر، غیر سرکاری 85 کروڑ ڈالر اور بانڈ ہولڈرز کے 2 36 کروڑ 25 لاکھ ڈالرز ہے۔2 ارب 41 کروڑ ڈالر کے ری شیڈولنگ سے سال کے دوران ملک کی قرض کی خدمات کی ادائیگی 6 ارب 53 کروڑ ڈالر ہوجائے گی جو جی ڈی پی کے 0.9 فیصد کی بچت ظاہر کرے گی۔تاہم ڈی ایس ایس آئی نے ان ادائیگیوں کو منسوخ نہیں کیا بلکہ انہیں صرف بعد کی تاریخ تک موخر کیا تھا۔معطلی کی مدت یکم مئی سے شروع ہوگی اور 2020 کے آخر تک رہے گی۔ادائیگیوں کی معطلی این پی وی نیوٹرل ہوگی، ادائیگی کی مدت ایک سال کی رعایت کی مدت کے ساتھ تین سال ہوگی اور اسے دوبارہ شیڈولنگ یا ری فنانسنگ کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔پاکستان نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس سے وبائی امراض سے متاثرہ زندگیوں کے لیے وسائل مختص کرنے کے لیے آسانی ہوگی۔

تاہم حکومت کی جانب سے اس اقدام کے تحت باقاعدگی سے قرض معطلی کی درخواست کرنے کے بعد موڈیز کی ریٹنگ ایجنسی نے حال ہی میں اس ملک کو منفی واچ پر ڈال دیا تھا۔عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی جانب سے ڈی ایس ایس آئی کی درخواست میں عالمی قرض دہندگان سے کہا گیا ہے کہ وہ غریب ترین ممالک کی قرض کی ادائیگی معطل کریں تاکہ وہ کورونا وائرس کے اثرات کو سنبھال سکیں۔اپریل میں عالمی بینک کی ترقیاتی کمیٹی اور جی 20 کے وزرائے خزانہ نے غریب ترین ممالک کے وسائل کو آزاد کرنے کے مطالبے کی تائید کی تھی۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ڈی ایس ایس آئی کے نفاذ میں اخراجات کی نگرانی، عوامی قرضوں کی شفافیت کو بڑھانے اور مستقبل کو دیکھتے ہوئے قرضے کو یقینی بنانے کے ذریعے مدد کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…