منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بیت اللہ اور مسجد نبویؐ میں نمازِ کسوف کی ادائیگی ، شہری رب کے حضور گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہے

datetime 21  جون‬‮  2020 |

ریاض ،لاہور ( آن لائن )سعودی عرب میں سورج گرہن لگنے کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ میں بیت اللّٰہ میں نمازِ کسوف ادا کی گئی۔سعودی عرب میں سورج گرہن کے موقع پر بیت اللہ ، مسجد نبویؐ اور مملکت کے تمام شہروں کی مساجد میں نمازِکسوف کی ادائیگی کی گئی۔

نمازِ کسوف کی ادائیگی کے دوران بیت اللہ ، مسجد نبوی اور دیگر مساجد میں کورونا ایس او پیز کا خاص خیال رکھا گیا۔ لوگوں نے اس موقع پر اپنے رب کے حضور گڑ گڑا کر معافی مانگی اور توبہ و استغفار کی۔سورج گرہن سعودی عرب کے علاوہ پاکستان سمیت افریقہ اور ایشیاء کے کئی ممالک میں دیکھا گیا۔دریں اثنا لاہور میں سورج گرہن کے دوران جامع مسجد منصورہ، جامع مسجد پنجاب یونیورسٹی سمیت شہر کی مختلف چھوٹی بڑی مساجد میں نمازِ کسوف ادا کی گئی۔اس موقع پر گناہوں کی مغفرت اور توبہ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔لاہور میں سورج گرہن کے دوران جماعتِ اسلامی کے مرکز منصورہ کی جامع مسجد میں شیخ القرآن مولانا عبدالمالک نے نمازِ کسوف پڑھائی۔ امیر جماعتِ اسلامی سینیٹر سراج الحق، حافظ محمد ادریس اور حافظ ساجد سمیت شہریوں کی بڑی تعدا دموجود تھی۔نماز کے بعد گناہوں کی مغفرت اور توبہ کے لیے دعائیں کی گئیں۔اس موقع پر امیرِ جماعتِ اسلامی سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چاند اور سورج گرہن اللّٰہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضوراکرم ؐنے سورج اور چاند گرہن کے موقع پر نمازِ کسوف ادا کی، سورج گرہن کے موقع پر اللّٰہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔امیرِ جماعتِ اسلامی سنیٹر سراج الحق نے اس موقع پر تلقین کی کہ جب تک سورج گرہن رہتا ہے گھروں میں کلام پاک کی تلاوت کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…