جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

احساس سینٹر بم حملہ، 5 ملزمان کے فرار کا انکشاف بھاگنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 20  جون‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں گزشتہ روز احساس پروگرام کے باہر تعینات رینجرز اور پولیس پر دستی بم حملے کے مقدمے میں پولیس کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ حملہ پانچ جوان العمر ملزمان نے کیا اور حملہ آوروں نے تعاقب کرنے پر پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ کے دوران رش کی وجہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

کراچی کے کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر نمبر 76/2020 میں لیاقت آباد تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او عابد علی شاہ مدعی ہیں۔ایف آئی آر میں پانچ ملزمان کو نامزد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی دفعہ سیون اے ٹی اے بھی عائد کی گئی ہے۔مدعی مقدمہ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سوا گیارہ بجے وہ پولیس اہلکاروں کے ہمراہ انجمن اسلامیہ اسکول لیاقت آباد نمبر 10 میں احساس پروگرام کی سیکورٹی ڈیوٹی چیک کرنے کے لیے پہنچے تو فلائی اوور پر پینٹ شرٹ اور شلوار قمیض پہنے 5 مشکوک ملزمان کو دیکھا۔مدعی پولیس افسر کے مطابق ان پانچ میں سے ایک ملزم نے فلائی اوور کے اوپر سے احساس پروگرام پر تعینات رینجرز اور پولیس کی گاڑی پر بارودی مواد پھینکا، جس سے دھماکہ ہوا۔پولیس کے مطابق ملزمان موٹر سائیکلوں پر فرار ہورہے تھے تو انہوں نے پولیس پارٹی کے ساتھ ملزمان کا تعاقب کیا، ملزمان نے 30 بور پستول سے فائرنگ کردی۔پولیس اہلکاروں نے بھی نائن ایم ایم اور سب مشین گنوں سے جوابی فائرنگ کی تاہم ملزمان رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی جانب سے فائر کئے گئے 30 بور پستول کے فائر شدہ 7 خول قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس کی جانب سے دن بھر اس طرح کی کوئی ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی تھی اور یہ ہر طرح سے ایک بلائنڈ کیس تھا۔مقدمہ کے اندراج کے بعد پولیس نا صرف یہ کہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کا فوری سراغ لگانے کی پوزیشن میں ہے بلکہ گرفتار ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کے لیے بھی عینی شاہدین موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…