جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کا فیصلہ،تلوار ابھی بھی لٹک رہی ہے،معروف وکلا نے نئی بحث چھیڑ دی

datetime 20  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) قانونی ماہرین اوروکلاء نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس فیصلہ پر کہاہے کہ تلوار ابھی بھی لٹک رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست قبول کرلی جس میں انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے صدارتی ریفرنس کو چیلنج کیا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیدیاہے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر حافظ عبد الرحمن انصاری نے ایک بیان میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی انتہائی تعریف کی اور کہا کہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے بنیادی مقصد کو برقرار رکھا گیا۔پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے وائس چیئرمین عابد ساقی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے آزاد عدلیہ کو محکوم بنانے اور دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کے مذموم اور ناپسندیدہ اقدام کو مایوسی ہوئی ہے۔پی بی سی نے یہ بھی اعلان کیا کہ تمام بار ممبران 22 جون کو یوم تشکر منائیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ تاریخی فیصلے اور قانون کی حکمرانی کی کامیابی، عدلیہ کی آزادی اور آئین پسندی کی فتح کے طور پر جشن منائیں گے۔سپریم کورٹ کے وکیل زاہد ایف ابراہیم نے کہا کہ عدالت نے اپنی آزادی پر حملے کی بدنیتی پر مبنی کوشش کو ناکام بنا دیا، اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ یہ مالی احتساب کے لیے کھلی ہے۔بین الاقوامی کمیشن آف جیورسٹ کی قانونی مشیر ریما عمر نے کہا کہ اس کیس کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلے میں یہ واضح کرنا چاہیے کہ صدارتی ریفرنس (حقیقی شکایات) کے معیار پر کیوں پورا نہیں اترا۔

لا اینڈ پالیسی ریسرچ نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اسامہ صدیق نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک مرتبہ پھر کیوں کھیل کا نشانہ بنی؟ یقینا یہ معاملہ اب صرف اہلیہ سے متعلق ہے، کیا کوئی اور چیز دریافت ہوسکتی ہے جو ایف بی آر، سپریم کورٹ / سپریم جوڈیشل کونسل میں واپس لے جائے تاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دوبارہ کھینچ لیا جائے، ہر صورت میں ابھی تلوار لٹک رہی ہے۔وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا کہ غیر سنجیدہ رویے کا خاتمہ ہمیشہ ناکامی پر ہوتا ہے۔وکیل تیمور ملک نے کہا کہ ایسا نہیں لگتا جیسے معاملہ ختم ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور عدلیہ دوسرے اہم کاموں پر توجہ مرکوز کرلے تو یہ بہتر ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…