منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کرونا کی پہلی دوا ہے جس نے اموات کو کم کرکے دکھایا ، تجربہ کامیاب پاکستان میں استعمال کی اجازت ، ماہرین نےعوام کو خوشخبری سنادی

datetime 19  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ میں کورونا کے علاج کیلئے ڈیکسامیتھاسون نامی دوا کا تجربہ کامیاب رہا تاہم یہ عام دوا نہیں بلکہ اسٹیرائیڈ ہے اور مرض بگڑنے کی صورت میں صرف جان بچانے کیلئے استعمال کرائی جاتی ہے۔نجی ٹی جیو نیو زکے مطابق طبی ماہرین نے اسی لیے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں اس کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جائے کیونکہ اس کے غلط استعمال سے

انسانی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر قیصر سجاد نے اس حوالے سے وفاقی حکومت کو تجویز دی ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کو طبی ماہرین کے مشورے کے بعد ہی کورونا کے مرض میں استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ کورونا کے علاج کے حوالے سے جن دواؤں کے نام سامنے آرہے ہیں ان کے بارے میں جینیاتی نام سمیت ہر طرح کی معلومات عوام کو فراہم کی جائیں۔واضح رہے کہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کورونا کے خلاف ڈیکسامیتھاسون دوا کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے استعمال سے 3 میں سے ایک شدید بیمار کورونا مریض صحت یاب ہونے لگا ہے۔برطانوی سائنسدان پروفیسرپیٹر ہاربے کے مطابق یہ اب تک کی پہلی دوا ہے جس نے کورونا میں اموات کو کم کرکے دکھایا ہے اور یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایکسپرٹ کمیٹی اس دوا کے استعمال پر غور کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…