بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

بجٹ دستاویز میں ہی اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کا پول کھل گیا

datetime 12  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کا دعوی کرنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے رواں مالی سال میں 544 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ حاصل کی۔ بجٹ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال 2019-20 کیلئے تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ کی مد میں 208.8ارب روپے لئے گئے جبکہ ریگولر ضمنی گرانٹ کی مد میں 335.99 ارب روپے حاصل کئے گئے جس میں ریلوے کا خسارہ پورا کرنے کیلئے

اسے سبسڈی کی مد میں چھ ارب روپے دیئے گئے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے 289.4ارب روپے کی تکنیکی گرانٹ دی گئی اس کے علاوہ فارن گرانٹس کی مد میں 1232ارب روپے حاصل کئے گئے۔ کابینہ ڈویژن کے دیگر اخراجات کیلئے 1.2ارب روپے۔ فیڈرل سروس کمیشن کیلئے 16کروڑ نیشنل سکییورٹی ڈویژن کیلئے ڈیڑھ کروڑ انسداد غربت کیلئے 85.7ارب روپے وزیراعظم آفس کیلئے 26ارب روپے، افواج پاکستان کیلئے 33ارب پاور ڈویژن کیلئے 21.7ارب پٹرولیم ڈویژن کیلئے 1.8ارب، پٹرولیم ڈویژن کے دیگر اخراجات کیلئے 32.4ارب کی ضمنی گرانٹ حاصل کی گئی۔ حماد اظہر نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کرکے 3900 ارب روپے مقرر کردیا ہے، لاہور، وفاق اور کراچی کے اسپتالوں کیلئے 13 ارب مختص کیے گئے، زراعت ریلیف میں 10 ارب مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بجلی کا ترسیلی نظام بہتر بنانے کیلئے 80 ارب مختص کیے گئے ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی کیلئے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ دستاویز کے مطابق اگلے سال صوبوں کومجموعی طورپر2ہزار874 ارب روپے منتقل کیے جانیکاتخمینہ ہے، قابل تقسیم محصولات میں سے پنجاب کو ایک ہزار 439 ارب روپے دیے جانے کا تخمینہ ہے۔قابل تقسیم محصولات میں سے سندھ کو 742 ارب روپے دیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے

جبکہ خیبرپختونخوا کو 478 ارب روپے، بلوچستان کو 265 ارب روپے دیے جانے کا تخمینہ ہے۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ رواں مالی سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 100 ارب روپے مختص تھے، کسانوں کو 50 ارب کی رقم دی گئی، وفاقی حکومت کے اخراجات میں مختلف پیکجز دینے کی وجہ سے اضافہ ہوا۔پی ایس ڈی پی دستاویز کے مطابق وزارت موسمیاتی تبدیلی کے 6 منصوبوں

کی مجموعی لاگت کا تخمینہ ایک کھرب 25 ارب 18 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، ان منصوبوں میں بلین ٹری سونامی کا پہلا فیز، سسٹین ایبل لینڈ مینجمنٹ پروگرام، کلائیمیٹ چینچ رپورٹنگ یونٹ، پاکستان واش سٹریٹیجک پلاننگ اینڈکوآرڈینیشن سیل، جیومیٹک سنٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور کلائیمیٹ ریزیلیئنٹ اربن ہیومن سیٹلمنٹ یونٹ کا قیام شامل ہیں۔ رواں مالی سال کے اختتام یعنی 30 جون 2020ء تک ان منصوبوں پر اخراجات کا تخمینہ 9 ارب 23 کروڑ 13 لاکھ روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران وزارت موسمیاتی تبدیلی کے منصوبوں کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…